کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ بہت ہی مایوس کن:طاہر حُسین

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو: حجاب کے معاملے پر کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ سناتے ہوئے مسلم لڑکیوں کی طرف سے دائر کی گئی تمام عرضیوں کو خارج کر دیا ہے۔ اس عرضی میں مسلم لڑکیوں نے اسکول اور کالج میں حجاب پہننے کی اجازت مانگی تھی،لیکن کرناٹکا ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ حجاب اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے۔ہائی کورٹ کایہ فیصلہ بہت ہی مایوس کن ثابت ہوا ہے ۔اس بات کااظہار ویلفیرپارٹی آف انڈیاکے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حُسین نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس تعلق سے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ ہم کورٹ کے فیصلے مطمئن نہیں ہیں اور کیونکہ ہمارا اسلامی کتابیں یعنی قرآن وحدیث میں اس بات کو واضح کردیاہے کہ حجاب اسلام کا ہی حصہ ہےاور یہ خواتین پر یہ لازمی ہے۔کونسی چیز شریعت میں ضروری ہے اس کو طئے کرنے کا حق اُن مذہب کے رہنمائوں کو ہے نہ کہ کورٹ کو۔مزید انہوں نے کہاکہ کرناٹکا ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے ریاست کی طالبات کی تعلیم متاثر ہوسکتی ہے۔ہمیں ہائی کورٹ کے فیصلے پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے دروازے انصاف کیلئے کھلے ہیں اور ہم اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے جاکر اُمید کی جاسکتی ہے۔کرناٹکاہائی کورٹ کے فیصلے کو ہم باریکی کے ساتھ پڑھاہے اور ہمیں افسوس ہورہاہے کہ جس طرح سے بابری مسجدکا فیصلے سنایا گیا تھااسی طرح کرناٹکا ہائی کورٹ نے حجاب پر اپنا فیصلہ سُنایاہے۔ہم کورٹ کے فیصلے سے حیران بھی ہیں اور مایوس بھی ہیں کیونکہ کورٹ حجاب کو اسلام کا حصہ نہ بتاتے ہوئے اسے ایک کلچرکا حصہ بتایاہے ۔آنے والےدنوں میں ہم اس معاملے کو سپریم تک لے جاکرایک مثبت فیصلے کی اُمید کرسکتے ہیں۔