حجاب پر ہائی کورٹ کے فیصلے کو لیکر طالبات نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ؛

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ کالج انتظامیہ کی طرف سے حجاب پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو صحیح قرار دینے اور حجاب کو مسلم خواتین کے لئے پہننا  ضروری مذہبی عمل نہیں قرار دینے کے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر ایک طرف پورے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے، وہیں اس  فیصلے کو لے کر طالبات نے سپریم کورٹ کا دروزہ کھٹکھٹایا ہے اور انصاف دلانے کی اپیل کی ہے۔اُدھرکرناٹک  ہائی کورٹ کے فیصلے کو لے کر جگہ جگہ باتیں ہورہی ہیں اور مسلم باحجاب طالبات کی اعلیٰ تعلیم کو لے کر سوالات اُٹھ کھڑے ہوگئے ہیں کہ  ان کی تعلیم کا کیا ہوگا ؟ مسلم اداروں میں اس تعلق سے  بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کو لے کر مختلف منصوبوں پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔دہلی سے ملی پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ میں منگل کو ہی  ایک عرضی دائر کی گئی ہے ۔یاد رہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے  قریب دو سو صفحات کے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اسکول یونیفارم کا نسخہ صرف ایک معقول پابندی ہے جو آئینی طور پر جائز ہے اور یونیفارم پر طلبہ اعتراض نہیں کرسکتے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ طالبات کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ دیودت کامتھ نے  قران اور احادیث کے حوالوں کے ساتھ مضبوط دلائل پیش کئے تھے  اور اس بات کو ثابت کرنے کی  کوشش کی تھی کہ  حجاب اسلام کا ایک لازمی جز و ہے، مگر ان سب کے باوجود ہائی کورٹ کی سہ رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حجاب مذہبِ اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے۔