بنگلورو:۔کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ سدرامیانے جمعہ کو14ویں مرتبہ بجٹ پیش کیا، بطور وزیر اعلیٰ یہ ان کا ساتواں بجٹ ہے۔بجٹ میں اقلیتوں کے تعلق سے اہم اعلانات کئے ہیں۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اپنے بجٹ میں کہاہے کہ بنگلوروکے حج بھون میں اقلیتی طلباء کیلئے10 ماہ کیلئے مفت آئی اے ایس،کے اے ایس جیسے مسابقاتی امتحانات کیلئے تربیت دی جائیگی،اس کے علاوہ پہلی تا آٹھویں جماعت کیلئے طلباء کیلئے جو اسکالرشپ روکی گئی تھی اس کیلئے60 کروڑروپئےمنظورکئے جائینگے۔ریاست میں اقلیتی نوجوانوں کو سیلف ایمپلائمنٹ مہیا کرنے کیلئے 4/ وہیلرس وہیکل کی خریداری کیلئے3 لاکھ روپئے تک کی مالی امداد دی جائیگی۔ریاست میں پچھلے کئی سالوں سے شادی محل کی تعمیر کاکام جو روکا ہواہے اُن کی تکمیل کیلئے54کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔موجودہ مائناریٹی مرارجی دیسائی اسکولوں کو ترقی دیکر وہاں 12ویں جماعت کی تعلیم کی سہولت مہیا کی جائیگی،اس کے علاوہ اقلیتی طلباء کو اریو منصوبے کے تحت 2 فیصد سودپر قرضے دئیے جائینگے۔وزیراعلیٰ نے اپنے بجٹ میں اندراکینٹین کو دوبارہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیاہے،پہلے مرحلے میں بی بی ایم پی اور شہروں میں اندراکینٹین شروع کرینگے،دوسرے مرحلےمیں چھوٹے ٹائون میں اس کی سہولت فراہم کی جائیگی،اندراکینٹین کے منصوبے کیلئے100 کروڑ روپئے منظورکئے جائینگے۔ریاست میں جن پانچ گیارنٹیوں کو نافذکرنے کا فیصلہ کیاگیاہے،اُس کیلئے52 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے جائینگے،اگر کاشتکاروں کے یہاں بیل ،گائے،بھینس مرجاتی ہے تو اس کیلئے10 ہزار روپئے کا معاوضہ دیاجائیگا۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدرامیانے تعلیمی شعبے کیلئے کئی اعلانات کئے ہیں،تعلیم شعبے کیلئے وزیر اعلیٰ نے37 ہزار کروڑ روپئے منظورکئے ہیں جس میں سرکاری اسکولوں اور کالجوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے مقصدسے نئے کمروں کی تعمیر کی جائیگی،اسکولوں میں نئے کمروں کی تعمیر کیلئے100 کروڑ روپئے اور کالجوں میں کمروں کی تعمیر کیلئے240 کروڑ روپئے منظورکئے جائینگے،جن اسکولوں و کالجوں میں کمرے خستہ حال ہیں اُن کمروں کی مرمت کے کام کیلئے100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔اسی طرح سے پہلی تا8 ویں جماعت کے طلباء جو سرکاری اور ایڈیڈ اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں،اُن طلباء کیلئے ہفتے میں ایک دن انڈا،کیلایا چکی دیا جائیگا۔اسی طرح سےطلباء کیلئے سائنس لیاب بھی مہیا کی جائیگی۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس موقع پر یقین دہانی کرائی کہ جن پانچ گیارنٹیوں کا وعدہ ہم نے انتخابات کے دوران کیاتھا،ان وعدوں کو ہر حال میں پوراکیاجائیگا، چاہے کوئی بھی اس سلسلے میں تنقیدکرے۔ریاست میں 10فیصد لوگوں کو ہی جی ایس ٹی کا فائدہ پہنچ ر ہا ہے ، اس شرح کو ہم بڑھاکر60 فیصد تک پہنچائینگے۔ہمارے بجٹ سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچے گا،کسی پر بوجھ نہیں پڑیگا ۔ سال رواں ریاستی حکومت کو ریونیو انکم62.1 لاکھ کروڑروپئے ،کمرشیل ٹیکس1 لاکھ کروڑ روپئے،ایکسائز ٹیکس38ہزار کروڑ روپئے ، رجسٹریشن اور اسٹاپ ڈیویٹی سے25 ہزار کروڑ روپئے ، موٹر وہیکل ٹیکس سے11500 کروڑ روپئے اور دوسرے ٹیکس سے2153 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی ، اس میں سے تعلیمی شعبے کو 37 ہزار کروڑ روپئے ، اومنس اینڈ چلڈرنس ویلفیر ڈیپارٹمنٹ کو24 ہزار کروڑ روپئے ، پائور ڈیپارٹمنٹ22 ہزار کروڑ روپئے، آبپاشی کیلئے19 ہزار کروڑ روپئے،دیہی ترقیاتی محکمے کو18 ہزار کروڑ روپئے،ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو16 ہزار کروڑ روپئے،ریونیومحکمے کو16ہزار کروڑ روپئے،ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو14ہزار کروڑ روپئے،سوشیل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ111ہزار کروڑ روپئے،پی ڈبلیوڈی کیلئے 10 ہزار کروڑ روپئے،زراعت اور باغبانی کیلئے 5860 کروڑ روپئے،مویشی پالن اور مچھلی پالن کے محکمے کو 3024کروڑ روپئے اور دیگر اخراجات کیلئے 09.1ہزار کروڑ روپئے خرچ کیلئے مختص کئے گئے ہیں ۔ بجٹ میں شراب اور بیئر پینے والوں کو گہرا جھٹکا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے جمعہ کو اپنی بجٹ پیشکش میں کہا کہ شراب پر ایکسائز ڈیوٹی میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ساختہ غیر ملکی شراب (IMFL) پر ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی (AED) میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جب کہ بیئر کے معاملے میں AED کو 175 فیصد سے بڑھا کر 185 فیصد کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ایکسائز کے تمام 18 سلیبس پر 20 فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔وزیر اعلیٰ سدرامیانے اپنے بجٹ میں مختلف لوگوں کو نظرمیں رکھتے ہوئے سہولیات فراہم کی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدرامیانے اپنے بجٹ میں غیر منظم شعبے کے مزدوروں کیلئے 4لاکھ روپئے کا انشورنس دینے کافیصلہ کیاہے۔غیر منظم مزدوروں میں علیحدہ شعبہ قرار دیتے ہوئےای کامرس میں آنےوالے ڈیلیوری بوائز جس میں سیوگی ، ذاماٹو،ای کامرس ڈیلیوری بوائزکےساتھ پیش آنے والے حادثات پر معاوضہ دینے کیلئے 4لاکھ روپئے کا بیمہ طئے کیاگیاہے۔انہیں کنسٹرکشن ورکرس بورڈ کے تحت رجسٹریشن کرواناہوگا۔
