شیموگہ : بی جے پی حکومت کی ناکامی ، غریب مخالف منصوبے اور اقتدار کےغرور کو برداشت نہیں کرنے والے ووٹروں نے تیرتھ ہلی اور بھدراوتی بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کو خیرباد کہہ دیا ہے۔اس بات کی تنقید کانگریس کے ضلعی صدرایچ ایس سندریش نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج زوم ایپ کے ذریعہ پریس کانفرنس بلائی اور بھدراوتی میونسپل کائونسل، تیرتھ ہلی ٹائون پنچایت میں کانگریس پارٹی کی جیت کی مبارکبادی پیش کی ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت اقتدار سنبھالنے میں ناکام ہوئی ہے، بی جے پی نے جیسا سلوک ووٹروںسے کیا ہے وہیں ووٹروں نے بی جے پی کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔ تیرتھ ہلی سی ایم کا حلقہ ہے اسکے بعدبھی یہاں کانگریس نے اپنی جیت کا پرچم لہرایا ہے یہ نہایت خوشی کی بات ہے۔ کئی سالوں بعد تیرتھ ہلی پر اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ آر ایم منجوناتھ گوڑا کانگریس پارٹی میں شامل ہوئےہیںاسی لئے یہ ایک آسان جیت ہے۔ اگر ایسا ہے تو کانگریس کو مزید تین وارڈوں میں کامیابی حاصل کرنی چاہئے تھی۔ کچھجگہوں پر محض 10سے15 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہوں نے ابھی تک کیمنےرتناکر اور منجو ناتھ گوڑا کےدرمیان صلح ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ان کے ہم آہنگی سے کانگریس وہاں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ دونوں نے مل کر کانگریس کے امیدوار کو کامیاب بنایا ہے۔ اگلے کچھ دن میں سب ٹھیک ہوجائے گا۔تیرتھ ہلی میںجیت کا فرق کم ہے۔ کانگریس پارٹی کے ممبروں کوبی جے پی مدعو نہیں کرے گی،اس سوال کے جواب میں کہا کہ اب اسطرح کا حربہ ختم ہوچکا ہے۔ کانگریس پارٹی کوچھوڑکر کوئی نہیں جائیں گے۔ اقتدار پر فائز ہونے کے دوران وپ بھی نافذ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ممبروں کواس بارے میں پہلے ہی انتباہ کیا گیا ہے۔بھدراوتی میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے یہ ایک اچھا اشارہ ہے۔ اس بار بھدراوتی میں بی جے پی نے انتخابات پر بہت پیسہ خرچ کیا تھا۔ بہت ساری تکنیک کا استعمال کیا ،جو کچھ بن سکتا تھا سب کچھ کیا لیکن ، ہمیشہ کی طرح بھدراوتی کے ووٹروں نے ہمیشہ کی طرح بی جے پی کودور رکھاہے۔ کانگریس نے تیرتھ ہلی اور بھدراوتی پر کوئی رقم خرچ نہیں کی ہے۔ ہم نے مل کر کام کیا ، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ووٹروں نے ہمارا ساتھ دیا۔مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ملک کو زوال میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ نوٹ بینڈ ، جی ایس ٹی ، قیمتوں میں اضافے ، انتخابات میں گول مال ، بدعنوانی اور عوام کےمفادات کو فراموش کرتے ہوئےقوانین نافذ کرتے آئی ہے۔ کانگریس پارٹی نے بی جے پی کی ناکامی کو عوام تک پہنچانےمیں کامیاب ہوگئی ہے۔مستقبل میں ضلع اورتعلقہ پنچایت انتخابات سمیت کانگریس ضلع میں مضبوطی کے ساتھ قائم رہے گی۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر پھیلانے کی ذمہ دار ریاستی حکومت ہے۔ ایک ہی دن میں ضلع میں 755 سے زیادہ افراد کوروناسے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ ریاستی حکومت کے غلط فیصلے کی وجہ سے ہے۔ لاک ڈاؤن کے فوراً بعد ایک ہی دن میں 12ہزاربسیں بنگلورو سے دیہاتوں کو اور دیہاتوں سے روانہ کردی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ ہے۔کوویڈ کوقابو کرنے میں ضلع انتظامیہ اور وزیر نگران کار کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ وہ صرف چنداجلاس منعقد کرکے اپنا وقت برباد کررہے ہیں۔ پورے شیموگہ میں متاثرین کو بیڈز نہیں مل رہے ہیں، وینٹی لیٹر نہیں ہیں، آکسیجن کی قلت ہے لیکن ضلع نگران کار وزیرکہہ رہے ہیں کہ کوئی کمی نہیں ہے یہ مضحکہ خیز ہے۔ ایک طرف وزیر ایشورپا کہہ رہے ہیں کہ کوویڈ ریمیڈی سیور کی ضرورت نہیں ہے، جن لوگوں نے یہ لیا ہے وہ بھی فوت ہوچکے ہیںوزیر موصوف کا ماننا ہے کہ اس کی زیادہ ضرورت نہیںہے۔ کیا وہ کوئی ڈاکٹر ہیں؟۔ دوسری طرف اومیش کتی سے کوئی سوال کرے تو وہ مرنے کی بات کررہے ہیں، ایسے وزراء کے چلتےبی جے پی کاکبھی بھلا نہیں ہوگا۔
