سدارامیاکے مقابلے میں منیپا میدان میں اُترینگے

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔اگلے اسمبلی انتخابات کے دوران کامیابی حاصل کرنے کیلئے معقول اسمبلی حلقے کی تلاش کررہے سدارامیا کو کولارمیں بھی شکست کاسامنا کرناپڑیگا،وہاں خودکانگریسی انہیں شکست دینے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔یہ قیاس آرائیاں بی جے پی کے خیمے میں چل رہی ہیں۔بی جے پی لیڈروں کا کہناہے کہ سدارامیا ان انتخابات میں اپنی سیاسی زندگی کے آخری انتخات کہہ کر لوگوں سے ہمدردی بٹورنے کی کوشش کررہے ہیں،لیکن اُنہیں لوگوں کی ہمدردی تو ملے گی لیکن کانگریسی لیڈروں کا ساتھ نہیں ملےگا۔دوسری جانب جے ڈی ایس بھی سدارامیا کو شکست دینے کیلئے کمربستہ ہے،آنے والے اسمبلی انتخابات کے بعد وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں سدارامیا کا نام سرفہرست ہے،جس کی وجہ سے کانگریس کے کچھ لیڈران پس پردہ رہ کر سدارامیا کو شکست دینے کی کوشش کررہے ہیں۔کانگریس لیڈروں کی سازش کو ہی بی جے پی ہتھیاربنا کر سدارامیاکو کمزور کرنےکی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔سدارامیا نے بنگلوروکے چامراج پیٹ سے انتخابات لڑنے کے تعلق سے پہل کی تھی،لیکن اس دفعہ اس حلقے میں ہندوومسلمانوں کے ووٹ مساوی طورپر تقسیم ہوئے ہیں،اس وجہ سے اگر سدارامیاکو پوری طرح سے مسلمانوں کے ووٹ مل بھی جاتے ہیں تو ہندوووٹ ملنا مشکل ہے،اس وجہ سے وہ دوسرے حلقے کی تلاش میں رہنے کی بات سامنے آئی ہے۔ان کا موجودہ اسمبلی حلقہ بادامی سے دوبارہ انتخابات لڑنے کیلئےوہ تیارنہیں ہیں،اس وجہ سے مسلم اکثریتی علاقے کی تلاش میں ہیں جو انہیں کولار،ٹمکورواور داونگیرے میں دستیاب ہے،مگر کولارمیں پہلے ہی منیپااسمبلی حلقے میں مقابلہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں،باوجوداس کے سدارامیانے کئی مرحلوں میں وہاں کے لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیاہے۔اگر سدارامیا ٹمکورو اسمبلی حلقے سے انتخابات لڑنے کی تیاری کرتے ہیں انہیں سابق رکن پارلیمان مدھا ہنمے گوڈا کی مزاحمت کا سامنا کرناپڑیگا اور ہنمے گوڈا کو بی جے پی اپنی طرف لینے کی پوری تیاری میں ہے۔پچھلے پارلیمان انتخابات میں مدھا ہنمے گوڈانے دیوےگوڈا کو پارلیمانی حلقے سے الیکشن لڑنے کیلئے مددکی تھی او رکانگریس سے اُمیدکی تھی کہ اُنہیں آنے والے دنوں میں ایم ایل سی یا راجیہ سبھا کا ممبر بنایاجائیگا،لیکن یہ دونوں ہی عہدے انہیں حاصل نہیں ہوئے جس کی وجہ سے وہ کانگریس سے ناراض ہوچکے ہیں۔وہیں داونگیرے اسمبلی حلقے سے بھی انتخابات لڑنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں،اس دفعہ شامنور شیوشنکرپا کو ٹکٹ نہیں ملتی ہے توسدارامیا کو ان کی جگہ الیکشن میں کھڑاکرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں،حالانکہ یہ مسلم اکثریتی حلقہ ہے،اس دفعہ شامنور شیوشنکرپاکو عمرکے تقاضے کے مدِ نظرٹکٹ ملنا مشکل ہے،اس لحاظ سے اگر انہیں ٹکٹ نہیں ملتی ہے تو سدارامیایاپھر ان کی بہو کو ٹکٹ دی جائیگی،اگر یہ دونوں بھی ٹکٹ لینے میں ناکام رہتے ہیں تو کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کے قوی امکانات ہیں،اس وجہ سے سدارامیا کئی اسمبلی حلقوں میں کشش کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔