شیموگہ:۔یوم اساتذہ کے موقع پر دئیے جانے والے ایوارڈ کس طرح سے ملتے ہیں اور کس طرح سے لیتے ہیں،اس سلسلے میں روزنامہ نے 6ستمبرکے شمارے میں مختصرتفصیل کے ساتھ خبر شائع کی تھی،لیکن اس ایوارڈس مافیا میں کچھ ایسے دلال بھی ہیں جو ایوارڈ دلوانے کا کام کرتے ہیں،اس کیلئے باقاعدہ ڈیل ہوتی ہے۔ضلعی سطح کیلئے الگ دام تو تعلقہ سطح کیلئے الگ دام لیکر ایوارڈ س دلوائے جاتے ہیں،جس کی وجہ سے ان ایوارڈ س کا تقدس پامال ہورہاہے۔اس کا جیتا جاگتا ثبوت روزنامہ کو اُس وقت ملا جب ایوارڈس کی فہرست محکمہ کے سطح پر4ستمبر کو جاری ہوئی،جبکہ ایوارڈس لینےوالوں کے نام 3ستمبرکوہی سوشیل میڈیامیں گردش کرنے لگے تھے۔یعنی کہ محکمہ کی جانب سے جو فیصلہ لیا جارہا تھااُس فیصلے کی پیشگی اطلاع ایوارڈس دلوانے والوں کو تھی،کہاجارہاہے کہ شیموگہ ضلع میں بھی بُلا بُلا کر ایوارڈس کیلئے فہرست تیارہوئی ہے اور اس فہرست کو تیارکرنے سے قبل باقاعدہ ہدیوں کا معاملہ بھی طئے ہواتھا۔درحقیقت ٹیچرس ڈے کے موقع پر دئیے جانےوالے وایوارڈس میں ضلعی سطح پر صرف تین ایوارڈہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں،جس میں لوئر پرائمری،ہائر پرائمری اور ہائی اسکول کے ایک ایک معلم کو ہر تعلق سے منتخب کیاجاتاہے،بعدمیں جو نام فہرست میں شامل ہوتے ہیں ،وہ ہمت افزائی کیلئے دئیے جانےوالے ایوارڈس ہیں۔اس تعلق سےخود اساتذہ بھی واقف ہیں،مگر جھوٹی شان وشوکت اور تعریفوں کیلئے ہر قسم کی قربانی دیکر ایوارڈس حاصل کیاجارہاہے۔غیر تو غیر اس معاملے میں کئی مسلم اساتذہ جو اردو اسکولوں میں معلمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں،وہ بھی اس سلسلے میں کسی سے کم نہیں ہیں۔کچھ اساتذہ زندگی بھر درس وتدریس کی خدمات میں اپنے سرکے بال سفید کرچکے ہیں،بورڈکے سامنے کھڑے ہوکر درس دیتے دیتے ان کے گھٹنے گھٹ گئے ہیں ، ایسے اساتذہ کو نہ محکمہ ایوارڈکے قابل سمجھ رہا ہے،نہ ہی محکمہ کے افسران اس سلسلے میں توجہ دینا ضروری سمجھ رہے ہیں۔جس طرح سے فلم انڈسٹری میں گلامراور اسٹیٹس کو دیکھ کرایوارڈس دئیے جاتے ہیں ،اسی طرح سے ٹیچرس ایوارڈس کی نوبت بھی ہوچکی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ طبقہ ایوارڈ لینے سے پہلے خود اپنے ضمیر کو گوارارکھ کر طئے کریں کہ وہ کیا ایوارڈ حاصل کرنے کے اہل ہیں؟کیا وہ اپنے فریضے کی ادائیگی میں ایماندارہیں؟کیاپیسے دیکر ایوارڈ لینا ان کیلئے شان کی بات ہوگی؟کیا سینئرٹیچرس کے سامنے ایوارڈلینے کیلئے ان کا دل مانے گا؟اگر یہ سوچ خود اساتذہ میں آتی ہے تو یقیناً اہل و ایماندار اساتذہ ایوارڈلینے کےمستحق قراردئیے جائینگے۔اس کے علاوہ ایوارڈ دلوانے کی دلالی جو لوگ کرتے ہیں،اُنہیں بھی یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایوارڈ دلواکر کچھ اساتذہ کو خوش تو کرسکتے ہیں،لیکن باقی اساتذہ ان دلالوں پر لعنت بھیجیں گے۔
