حجاب معاملے سے متاثرہ طلباء کی رہنمائی کیلئےشہرمیں خصوصی اجلاس ; تعلیم پرتوجہ دینے اور اعلیٰ حکام سے بات کرنے کی دی گئی ترغیب

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔حجاب معاملے میں پریشانیوں کا سامنا کررہی طالبات نے شیموگہ اسٹوڈینٹس کے پلاٹ فارم کے ماتحت رہنمائی کیلئے خصوصی اجلاس کاانعقادکیاتھا،جس میں طالبات نے اس بات کاالزام لگایاہے کہ انہیں اُمت مسلمہ کے قائدین اور رہنمائوں نے بے سہارا چھوڑ دیاہے اور ان کے مسائل کو سننے کیلئے کوئی تیارنہیں ہے۔اسی طرح کے کئی سوالات سے پریشان طالبات کو اس پلاٹ فارم کے ذریعے سے مثبت پیغام پہنچانے کی کوشش مولانا عبدالغفارحامد عمری،مفتی مجیب اللہ قاسمی،اڈوکیٹ شاہراز مجاہد صدیقی،صحافی مدثراحمد اور محمد سالک, رفیع قادری نےکی ہے۔اس موقع پر مولانا عبدالغفار حامد عمری نے کہاکہ یہ آزمائش کا وقت ہے ،اس میں طالبات پریشان نہ ہوں،پوری اُمت مسلمہ آزمائش کے سمندرمیں غوطہ لگارہی ہے،جتنی آزمائشیں آئی ہیں،اُس سے زیادہ طاقت خدانے مسلمانوں کو دی ہے۔حجاب کو لیکر جس طرح سے ہماری بیٹیاں لڑرہی ہیں وہ قابل مبارک ہیں،انہیں چاہیے کہ وہ حکمت کے ساتھ کام کریں۔طالبات کو انہوں نےبتایاکہ وہ یہ نہ سوچیں کہ ان کی قیادت ورہنمائی کوئی نہیں کررہاہے،بلکہ یہ دیکھیں کہ اُمت مسلمہ کے قائدین،دانشوروں اور اہل علم حضرات کا ایک طبقہ،عدالت،سیاست اور صحافت تینوں طریقے سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں لگاہواہے،اسی کی بدولت آج کرناٹک بند کا اعلان ہواہے۔ہر دن اس سلسلے میں قائدین کی جدوجہد چل رہی ہے جو بعض موقعوں پر ظاہر نہیں کی جارہی ہے۔اڈوکیٹ شاہرازمجاہد صدیقی نے کہاکہ حجاب کا معاملہ جب اُڈپی میں شروع ہوا تو وہیں حل کیا جاسکتا تھا ،لیکن جانے انجانے میں اس معاملے کو ہائی کورٹ تک لے جایاگیا،جہاں پر طالبات کیلئے مزید دشواریاں پیدا ہوئی ہیں ،بقول کرناٹکا ہائی کورٹ یہ قانون صرف پی یو سی کی طالبات کیلئے ہیں اور جو گرایجوئٹ اور پی جی کی طالبات ہیں اُن کیلئے یہ قانون قابل عمل نہیں ہے۔لکچررس اور ٹیچرس کیلئے یہ قانون لاگونہیں ہوتا،مگر یہاں قانون نافذ کرنے والوں کی ہی نیت میں کھوٹ ہے،اس لحاظ سےعدالت کے احکامات کو توڑ مروڑ کر پیش کیاجارہاہے۔اس دوران مفتی مجیب اللہ قاسمی نے کہاکہ آج کے دوران میں تعلیم بے حد ضرورت ہے اور شرپسند نہیں چاہ رہے ہیں کہ مسلم قوم تعلیم حاصل کریں اور مسلمانوں کی قیادت کیلئے آگے آئے۔آج اُمت کی لڑکیاں جس طرح سے حالات کا مقابلہ کررہی ہیں وہ قابل ستائش مبارک بات ہے،ان لڑکیوں کا ساتھ دینے کیلئے پوری اُمت تیارہے۔طالبات یہ سمجھیں کہ اُمت مسلمہ انہیں نظراندازکررہی ہے ، بلکہ یہ دیکھیں کہ کس طرح سے مسلم طالبات کی تائید میں شانہ بشانہ کھڑے ہوئی ہیں۔صحافی مدثراحمدنے بات کرتے ہوئے کہاکہ طالبات تعلیم پرخاص توجہ دیں اور میڈیا میں غیر ضروری بحث ومباحثوں میں شرکت نہ کریں،جب شریعت کی بات تفصیل سے نہ معلوم ہوں تو اُس وقت ہر حال میں بحث و مباحثوں سے گریز کریں۔ٹی وی چینلس اپنی ٹی آرپی بڑھانے کیلئے مسلم لڑکیوں کا استعمال کررہے ہیں،جبکہ آج مسلمانوں نے اپنے حق کیلئے آوازاٹھائی تو ٹی وی چینل میں ایک منٹ کی نیوز بھی پیش نہیں کی گئی ہے۔ا س سے اندازہ لگائیں کہ میڈیا کس طرح سے مسلمانوں کے مسائل پر سنجیدہ ہے۔اس موقع پر طالبات کے سوالات کے جوابات دئیے گئے اور ان کی ہمت افزائی کرنے کیلئے صحیح فیصلے لینے کی ترغیب دی گئی۔