بحرین:۔بحرین کے شہر العدليۃ میں معروف ہندوستانی ریسٹورنٹ ’لیٹرنس‘ کو حجاب پوش خاتون کا داخلہ ممنوع کرنے کی پاداش میں انتظامیہ نے ہوٹل کو بند کردیا۔اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے تنبیہ جاری کی کہ کسی بھی طرح کے امتیاز اور مملکت بحرین کے قوانین کے خلاف بنائی گئی کسی بھی پالیسی کو قطعی برداشت نہیں کیا جائیگا۔ اس سلسلے میں اتھاریٹی نے کسی بھی طرح کی شکایت کیلئے ایک خصوصی نمبر بھی جاری کیا ہے۔کرناٹک میں ان دنوں حجاب کے خلاف شرانگیزی کا ماحول ہے۔ تعلیمی اداروں میں حجاب پوش طالبات کے داخلے پر پابندی کی توثیق ہائی کورٹ نے بھی کردی ہے جبکہ سپریم کورٹ اس پر فوری شنوائی کیلئے تیار نہیں ہے۔ ایسے میں بحرین میں ایک باپردہ مسلم خاتون کوحجاب کی وجہ سے ہوٹل میں داخل ہونے سے روکنے کا واقعہ کسی عرب ملک میں ہونے والااپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔پتہ چلا ہے کہ سوشل میڈیا پراس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بحرین کی ٹورزم اورایگزیبیشن اتھارٹی نے معاملے کی چھان بین شروع کردی۔وائرل ہونے والی ویڈیو میں مذکورہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ ایک انڈین ریسٹورنٹ میں گئی لیکن اس وقت ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی جب ہوٹل کے ملازمین نے یہ کہہ کرانہیں اندرداخل ہونے سے روک دیا کہ حجاب پہننے کی وجہ سے وہ ہوٹل میں داخل نہیں ہوسکتیں۔وڈیو وائرل ہوتے ہی حکومت نے ہوٹل بند کروا دیا اوروزارت سیاحت کی جانب سے تمام سیاحتی اداروں کو تنبیہ کی گئی کہ وہ ریاست کے قوانین پرعمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ جب کہ ریاست میں کسی بھی فرد کے خلاف امتیازی سلوک کی قطعی گنجائش نہیں ہے۔ گلف ڈیلی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بعدازاں ریسٹورنٹ کے انتظامیہ نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنی جانب سے تحریری بیان جاری کیا جس میں ریسٹورنٹ انتظامیہ نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ڈیوٹی منیجر کو معطل کر دیا گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ ڈیوٹی منیجر کا تعلق ہندوستان کی ریاست کرناٹک سے ہے۔
