شیموگہ: مرکزی مزدور تنظیموں کی مشترکہ کمیٹی کے زیر اہتمام "لوگوں کو بچاؤ ملک بچاؤ”کے نعرے کے ساتھ آج شیموگہ میںایک بڑا جلوس نکالاگیا۔بعدازاں ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے احتجاج کیاگیا۔مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت لیبر کوڈز کو ختم کرے، کوئی نجکاری نہیں ہونی چاہئے، تمام مزدوروں کوسماجی تحفظ فراہم کی جائے،ٹھیکدارمزدوروںکو قائم ملازمت دی جائے، پرانی پنشن اسکیم کو نفاذ کرنے جیسےتقریباً 12 سے زائد مطالبات کی تکمیل کا مطالبہ کیا گیا۔لوگوں کے حقوق اورروزمعاش کوبچانے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کارپوریٹ کو ترک کرتے ہوئے ملکی معیشت کومضبوط بنانے کیلئے یہ احتجاج کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت مزدور دشمن، کسان مخالف، عوام دشمن پالیسیوں کی پیروی کرتی ہےاور کارپوریٹ کے حق میں بات کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی تباہی سے بچنے کی ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمت کم ہونی چاہئے۔ ٹھیکدار ورکرزکو مستقل ملازمت ملنی چاہئے۔ انہیں تحفظ اور انشورنس کا مطالبہ کیا۔اکشے دشوہا کے ملازمین نے احتجاج میں حصہ لیا، مرکزی حکومت نے کٹوتی کی۔فیصد مکمل 40 دیے جائیں۔ کم از کم 24 ہزار ادا کیے جائیں۔آنگن واڑی میں ایل کے جی یو کے جی کے قیام کا مطالبہ کیا۔اکشرا دسوہا کے ملازمین نے احتجاج میں حصہ لیااورمرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بجٹ میں کٹوتی کئے گئے 40 فیصد مالی امداد مختص کی جائے۔ کم از کم 24 ہزارروپئے تنخواہ ادا کرنے پرزور دیاہے۔آنگن واڑی میں ایل کے جی یو کے جی کے قیام کا مطالبہ کیا۔سی آئی ٹی یو، اے آئی سی سی ٹی یو، بی ایس این ایل، ائمپلائمنٹ یونین، گرام پنچایت ملازمین یونین، اکشرا دسوہا، آنگن واڑی ملازمین یونین سمیت 11 سے زیادہ ٹریڈ یونینوں نے احتجاج میں حصہ لیا۔مزدور یونین کے لیڈرڈی سی ماینا، اننترام، ہنومما، تلسی پربھا، بھاگیہ، گیتا،سمیت سینکڑوں ملازمین نے احتجاج میں حصہ لیا۔
