شیموگہ:۔ ذات پات، مسلک، پارٹی چھوڑ کراپنی زمین کے حق کیلئے لڑیںاور اسے حاصل کریں۔ یہ لڑائی زمین پر ہمارےحق کی ہے۔ اس کا اظہار شراوتی بیک واٹر علاقے کے کسانوں نے کیاہے۔ انہوں نے اپنی زمینی حق کو تحریک کے ذریعہ حاصل کرنے تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کا انتباہ کیا ہے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئےگرتی کیرے نارائن گرومٹھ کے رینوکاننداسوامی نے کہا کہ وہ اس وقت تک جدوجہد کوجاری رکھیںگےجب تک کہ انہیں زمین نہیں مل جاتی۔انہوں نے آج شہر کے آلکولہ سرکل پر شیموگہ ضلع شراوتی بیک واٹرس متاثرہ کسان یونین کی طرف سے منعقد کی گئی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور ملک کو روشنی دینے والے شراوتی بیاک واٹرکے کسان آج بھی اندھیرے میں ہیں۔ سینکڑوں خاندان بے گھر ہیں۔ ابھی تک حکومت نے ان کسانوں کوزمین کا کوئی حق نہیں دیا ہے۔اس کیلئے جدوجہد ضروری ہے لہٰذا تمام پسماندہ لوگوں کو آپس کے اختلافات بھلا کر مل کر لڑنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 166 دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ ڈوبنے والوں کو 60 سال سے زمین منظور نہیں کی گئی۔ لہٰذا حکومت فوری طور پر حق پتر جاری کرے۔ ہم نے تو جدوجہدکرتے ہوئےتمام زندگی برباد کردی ہے بس اب مرنا باقی ہےکہتے ہوئے انہوں نے برہمی کا اظہار کیا۔ساگرکےکانگریس لیڈر تیناشرینواس نےبات کرتے ہوئے کہاکہ 166 گاؤں کی 1.06 لاکھ ایکڑ سے زیادہ زمین آبی ذخائرکی تعمیر میں چلی گئی ہے۔ 1958 کے مطابق بے گھر خاندانوں کیلئے 9.6 ہزار ایکڑ اراضی کی ڈی نوٹیفکیشن کیا ہے لیکن ابھی تک زمین منظور نہیں کی گئی۔جس سے زمینیں کھوچکے خاندان کنگال ہوچکے ہیں۔ اس پس منظر میں بڑے پیمانے پر پیدل احتجاج اورڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے دھرنہ اورستیہ گرہ کیا گیا۔ اس موقع پر متاثرہ کسانوں میں ہووپا، گنپتی، اشوک کے این، راجیندر ، رگھوپتی ، منجپا وغیرہ موجودتھے۔
