شیموگہ:سُنی جمعیۃ العلماء ریلیف اینڈ ویلفیر کمیٹی کی جانب سے شیموگہ فساد کے متاثرین کیلئے مالی امدادبدزریعہ چیک تقسیم کئے گئے،جس میں 90متاثرین میں تقریباً7/ لاکھ روپئے تقسیم کئے گئے۔یادرہے کہ 20 فروری کو ہرشانامی شخص کا قتل کے بعد شیموگہ شہرمیں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑاتھا اور21فروری کو جلوس کے دوران آزاد نگر ۔کلرک پیٹ۔راجیوگاندھی نگراور نالبندواڑی جیسے علاقوں میں مسلمانوں کے مکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے سڑک کنارے کھڑی کی گئی سواریوں کو آگ لگا دی گئی اور متعدد افراد پرحملہ کرتے ہوئے اُنہیں زخمی کیاگیاتھاجن میں خواتین بھی شامل تھیں ۔دارالعلوم جامعہ رضویہ شاہ علیم دیوان میں منعقد ایک مختصر سی تقریب میں متاثرین میں چیک تقسیم کئے گئے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے سُنی جامع مسجدکے سابق صدرآفتاب پرویز نے کہاکہ ہرشا نامی نوجوان کاقتل کامعاملہ اچانک پیش آیا تھا،ذاتی دشمنی کے نتیجہ میں رونما ہونے والی قتل کی واردات کو لیکر تمام مسلمانوں کو نشانہ بنایاگیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ کمیٹی والوں نے متاثرہ محلوں کا سروے کرکے نقصانات کاجائزہ لیا اور متاثرین کی فہرست تیار کی اس کے تحت بلاتفریق مذہب مالی امداد دی گئی ہے۔90متاثرین میں تقریباً10 غیرمسلم برادران وطن کو مالی امداد دی گئی ہے۔اس موقع پر چیک حاصل کرنے کے بعد متاثرین نے کمیٹی کاشکریہ ادا کیاہےکہاکہ کمیٹی والوں نے جوقدم اٹھایا ہے قابل ستائش ہے۔اس موقع پر صدر عبدالستار بیگ نظامی،سکریٹری اعجاز پاشاہ،اقبال حبیب سیٹھ،منور پاشاہ،حسن علی خان آفریدی،عبدالصمد ،ضیااللہ،سید نوید،عمران اور ذمہ دار ان موجودتھے۔
