مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مہم جاری؛ اب حلال گوشت پر امتناع کا مطالبہ، جائزہ کے بعد فیصلہ لینے وزیراعلیٰ بومئی کا تیقن

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ پورے ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مہم جاری ہے، طالبات پر حجاب پر پابندی، کشمیر فائلس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی مہم، منادر کے احاطوں میں مسلمانوں کی دکانوں پر امتناع کی کوشش کے بعد اب کرناٹک میں حلال مصنوعات پر امتناع عائد کرنے کے مطالبے میں شدت پیدا کی جارہی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ  ایسی کوششوں کی مخالفت کرنے کے بجائے سرکار خود ایسے کاموں کو بڑھاوا دے کر مسلمانوں کے خلاف ملک بھر میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش میں سرگرم لگ رہی ہے۔ حلال گوشت پر پابندی عائد کرنے کی مطالبے میں شدت پیدا ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اس مسئلہ کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنا موقف واضح کریگی۔ واضح رہے کہ مسلمان صرف مسلمان کے ہاتھوں ذبح کیا ہوا حلال گوشت ہی کھاسکتے ہیں، بغیر ذبح کیا ہوا گوشت کھانا اسلام میں حرام ہے۔ چونکہ مسلم دکانات میں فروخت ہونے والاگوشت اور چکن حلال ہوتا ہے، دائیں بازو کی تنظیمیں ہندوؤں سے ایسی دکانات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کررہی ہیں اور ہندوؤں کو حلال گوشت کی فروخت کو معاشی جہاد کی ایک شکل قرار دیا  جارہا ہے۔