شیموگہ:۔شہرکی آزاد گرلس ہائی اسکول شیموگہ میں کرناٹک راجیہ اردو ٹیچرس اسوسی ایشن شاخ شیموگہ تعلق نے ایک شاندار جلسے کا انعقاد کیا۔ اس جلسے کی صدارت کے فرائض کرناٹکا راجیہ اردو ٹیچرس اسوسی ایشن شاخ شیموگہ کے صدر سید پرویز احمد نے ادا کیے۔ مہمانوں کی حیثیت سے ڈی ڈی پی آئی شیموگہ پرمیشورپّا، بی ای او شیموگہ ناگراج، سماجی کارکن تصویر احمد، ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی، شیموگہ ڈائیٹ کی سینیرلکچرر بی ٹی آئی فاطمہ ، وقف بورڈ شیموگا کے چیرمین محمد شفیع اللہ ،شکاری پور کے سی آر پی محمد غوث ، کرناٹکا راجیہ اردو ٹیچرس اسوسی ایشن کے ممبر سید رفیع اللہ، عطاء اللہ وغیرہ نے شرکت کی۔ یہ جلسہ کئی مقاصد کے تحت منعقد کیاگیاتھا۔ اس جلسے میں کورونا کے دوران نمایاں خدمات انجام دینے والے کئی لوگوں اور ڈاکٹروں کو تہنیت پیش کی گئی تو اردو صحافت کی دم دار آواز ’ـ’روزنامہ آج کا انقلاب‘‘ کے مدیر مدثراحمد کو بھی اعزاز پیش کیاگیا۔ کئی وظیفہ یاب اساتذہ کی خدمات کو اعتراف کرتے ہوئے انہیں اعزاز پیش کیا گیا تو کئی سابق سی،آر،پی حضرات کی نمایاں کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے ان حضرات گرامی کوبھی اعزاز پیش کیاگیا۔ اس جلسے کو تاریخی اہمیت اس لیے بھی حاصل ہو گئی کہ اس موقع سے اساتذہ برادری سے تعلق رکھنے والے ، ادب اطفال کے سب سے سچے مخلص، اور زرخیز ذہن کے حامل قومی انعام یافتہ شاعر و ادیب ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی 100ویں اور101ویں کتاب باغ اطفال اور اللہ احد کی رونمائی کی گئی۔ اور دونوں کتابوں کی ایک ایک کاپی سارے اردو اساتذہ اور اردو اسکولوں کو تحفتاً پیش کی گئی۔ اس کتاب کی رونمائی پرمیشورپّا ڈی،ڈی، پی آئی شیموگہ نے کی۔ ڈی،ڈی،پی،آئی پرمیشورپّا نے اساتذہ سے کہا کہ آپ تمام اردو اساتذہ کو زیادہ دلچسپی سے کام کرنا ہوگا۔ اردو اسکولوں میں بچوں کی تعداد بڑھانے کے لیے محنت کرنی ہوگی۔ حکومت ساری سہولتیں مہیّا کررہی ہے۔ اس صورت حال میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ حضرات اپنی لگن محنت، خلوص اور دیدہ وری سے کام لے کر اردو اسکولوں کے معیار کو بلند کریں۔ عوام میں مادری زبان کی اہمیت کا احساس پیدا کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ آپ کے لیے فخر اور خوشی کی بات ہونی چاہیے کہ آپ کی برادری کے ایک شاعر اور ادیب نے وہ عزت اور شہرت حاصل کی ہے جس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ اور آج حافظؔ کرناٹکی کے نام سے ساری اردو دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ وہ اپنے لاکھوں روپے کی کتابیں بھی تحفتاً پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح کی کتابوں کو غیر رسمی تدریس کے طور پر استعمال کرکے اردو کا ماحول بنائیں۔ انہوں نے اردو ٹیچرس کے ان اقدامات کو بھی سراہا کہ آپ سماج اور بچوں کی بہبودی کے لیے کام کرنے والے لوگوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے کہا کہ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ہم حافظؔ کرناٹکی جیسے بڑے انسان اور بڑے شاعرو ادیب کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ اور ان کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ آج کے سب سے زرخیز مصنف ہیں۔ اور بچوں کی تعلیم اور اردو زبان کی ترقی کے آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ جس خلوص سے اپنی کتابیں اساتذہ اور طلبا تک پہونچاتے ہیں اس کی دوسری کوئی مثال نظر نہیں آتی ہے۔ اردو دنیا میں شاعروں اور ادیبوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مگر آپ ایک بھی ایسا شاعر اور ادیب نہیں تلاش سکیں گے جو ’’باغ اطفال‘‘کے مصنف حافظؔ کرناٹکی کی طرح لوگوں کے دلوں کے درپر دستک د یتا ہو۔ ان کی کتاب کے موضوعات اور مواد بھی ایسے ہوتے ہیں جن سے بچے اور اساتذ ہ کے مطالعے کے ذوق کی تربیت ہوتی ہے۔ ایسے فنکار اور ادیب کی عزت ہماری عزت ہے۔محمد غوث سی،آر،پی شکاری پور نے اخباری نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شکاری پور اور شیموگہ کی سرزمین اردو کے لیے نہایت زرخیز ہے۔ اس زمین کو زرخیز بنانے میں حافظؔ کرناٹکی نے اپنا خون پسینہ ایک کردیا ہے۔ وہ اردو کے نام پر کیے جانے والے ہر پروگرام کے لیے اپنا تعاون پیش کرتے ہیں۔ اور اپنی دلچسپی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسا اردو مجاہد اگرہر علاقے میں پیدا ہو جائے تو اردو کی کھیتی آج بھی لہلہااٹھے گی۔ اس جلسے کی نظامت کے فرائض جناب محمد مختار صاحب نے نہایت خوب صورتی کے ساتھ ادا کیے۔ اور اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے جلسے کو نہایت منظم رکھا۔یہ کامیاب اور پیغام دینے والاجلسہ امیرجان کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہونچا۔
