شیموگہ:۔ عوام کے مفادات کاخیال رکھتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کی تجویز کو 2022-2023 کے لیے ترک کردیں۔اس بات کا مطالبہ آج کارپوریشن کے حکمران پارٹی اراکین نے کمشنر کے ذریعہ شہری ترقیاتی محکمہ کے سکریٹری کو میمورنڈم پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام شہروں اور قصبوں میں 2022-2023 تک کم از کم3 فیصد سے 5 فیصد پراپرٹی ٹیکس کی شرح پر نظر ثانی کے لیے کونسل کے اجلاس میں پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں اضافے کیلئےکارپوریشن انتظامیہ کے ذریعہ قانونی ہدایت دئے گئے ہیں ۔ درحقیقت کمشنر نے ٹیکس کی شرح پر نظر ثانی کی تجویز دی ہے ۔ کارپوریشن کے حدود میں عمارتوں اور اراضیوں کی ہرتین سال بعد 15 فیصد پراپرٹی ٹیکس میں اضافےکے قوانین ہیں۔ شیموگہ کارپوریشن کے حدود میں عمارتوں اوراراضیوں کیلئے پہلے ہی21-2020سے 3سال یعنی 2021-22 اور 2022-23 فیصد لاگو ہونے والے 15 فیصد پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ کی درخواست کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ نئے اصول کے تحت 2021-22 میں لاگو ہوگا، اس سال عوام کیلئے ٹیکس زیادہ ہوگا۔بلدیہ ڈائریکٹوریٹ کے ہدایتی مکتوب کے مطابق رواں سال ٹیکس کی شرح میں اضافے سے پہلے ہی کوویڈ کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار عام لوگ متاثر ہوں گے۔ اس کے علاوہ، پچھلے قوانین کے تحت پہلے ہی15فیصدپراپرٹی ٹیکس میں اضافہ ہوا ہے۔ اب 23-2022کے تحت دوبارہ نئے اصولوں کے تحت کم ازکم3 فیصد سے 5فیصد پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں نظر ثانی معقول نہیں۔ لہٰذا درخواست ہے کہ عوام کے مفادکا خیال رکھتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز کو ترک کر دینے کا مطالبہ کیا گیا۔اس موقع پر میئر سنیتا انپا، ڈپٹی میئر شنکر گنی، حکمران پارٹی کے رہنما ایس این چنبسپا، سٹی بی جے پی صدر این جگدیش ،سریکھا مرلی دھر، لتا گنیش، سمیت کئی ممبران موجودتھے۔
