شکاری پور:۔ کرناٹکا راجیہ سرکاری پرائمری ٹیچرس اسوسی ایشن شکاری پور، بی۔ای۔او B.E.Oآفس گروبھون شکاری پور میں ایک شاندار اعزازی جلسے کا انعقاد کیا۔ اس جلسے میں اسوسی ایشن کے اساتذہ کا اعزاز کیا جن کو ان کی بہترین کارکردگی کے لیے پروموشن ملا اور ان اساتذہ کا بھی اعزاز کیا جنہوں نے صحت عامہ کے تحت کھیل کود، اور مختلف اقسام کے ادبی و ثقافتی مقابلوں میں حصّہ لے کر انعامات حاصل کیے تھے۔ اس جلسے میں قومی و ریاستی ایوارڈ یافتہ اردو کے نہایت زرخیز فنکار و شاعر ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے شرکت کی۔ اس جلسے کا باضابطہ افتتاح مدھوکیشو ایچ ڈی صدر کرناٹکا راجیہ سرکاری محنت کش تنظیم نے دیپ جلا کر کیا۔انہوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ آج ہم سب کے لیے اور باالخصوص اعزاز پانے والے سبھی اساتذہ کے لیے دوہری خوشی اور اعزاز کا دن ہے۔ کیوں کہ ہمارے درمیان وہ شخصیت موجود ہے جن کی موجودگی سے ہی جلسہ تاریخی بن جاتاہے۔ میری مراد ہے ہماری ریاست کے ادبی وقار کے سرتاج ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی سے ہم بہت دنوں سے ان سے وقت لینے کے لیے کوشاں تھے۔ ان کی مصروفیت کی وجہ سے ہمیں اپنے اس اعزازی جلسے کو مؤخر کرناپڑاتھا۔ مگر آج انہوں نے اپنا قیمتی وقت ہمارے لیے نکالااور ہمارے جلسے کی قدر و قیمت میں اضافہ کیا۔ یہ بڑی خوشی کا موقع ہے کہ ہمارے اساتذہ ایک نہایت معزز شاعر و ادیب ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کے ہاتھوں اعزاز حاصل کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ؛ یہ اکامہادیوی کی سرزمین ہے، جس میں ادبیت اور روحانیت کی خوشبو رچی بسی ہے۔ اسی وراثت کے فنکار تھے، راشٹرکوی کوئمپو۔ جی ،ایس شورودرپّا جی اور اسی وراثت کی روشن مثال ہیں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی جی انہوں نے سبھی اعزاز یافتگان کو مبارکباد دی اور ان کی خدمات کو سراہا۔پاپیّا جی نائب صدرکرناٹکا راجیہ سرکاری پرائمری ٹیچرس اسوسی ایشن بنگلور نے اپنے خطاب میں کہا کہ؛ یہ علاقہ علمی و ادبی اور روحانی ہونے کے ساتھ ساتھ روشن ضمیر سیاستدانوں کا بھی علاقہ ہے ،یہ علاقہ سابق وزیر اعلیٰ یڈی یورپا اور رکن پارلیمان راگھویندرا کا علاقہ ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی سہولت کے لیے بہت سے کام کیے ہیں۔ وہ تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں یوم خواتین مناکر سماج میں خواتین کے سمّان کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا تھا۔ ہمیں یقین ہے کہ جب تک ہمارے درمیان ایسے کھلے دل کے سیاست دان رہیں گے یہاں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوگا۔ ہمارا علاقہ امن و امان اور بھائی چارہ کا گہوارہ بنارہے گا۔ اور اساتذہ بچوں کو انسانیت اور بھائی چارے کا پاٹھ پڑھاتے رہیں گے ۔پرکاش ایم جی صدرکرناٹکا راجیہ سرکاری پرائمری ٹیچرس اسوسی ایشن شاخ شکاری پور نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ؛ سب سے پہلے تو میں آپ سبھی اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اور ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت ہمیںدیا۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی صرف شاعر اور ادیب ہی کی حیثیت سے ہمارے لیے معزز اور قابل فخر نہیں ہیں ، ان کی سماجی اور رفاہی خدمات بھی بے مثال ہے۔ ان کی اسی طرح کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت کرناٹک کے محکمہ بہبودی خواتین و اطفال نے انہیں ریاستی ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ان کی شخصیت میں انسانیت کی سچی مٹھاس ہے۔ وہ ایکتا اور اتحاد کے روشن چراغ ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی حب الوطنی کی نظموں کی جو دھوم ہے وہ بے مثال ہے۔ میں انہیں یوٹیوب پر دیکھتا ہوں تو فخر محسوس کرتا ہوں۔ وہ سوکتابوں کے مصنف ہیں ۔وہ خود معلّمی برادری کے فرد فرید ہیں۔ان کے ہاتھوں سے اعزاز پانا ہمارے اساتذہ کے لیے دو ہرے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ؛ ملناڈ اکامہادیوی کی سرزمین ہے۔ راشٹرکوی کوئمپو،جی۔ایس شوردرپّا اور ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی جن کے روشن چراغ ہیں۔ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اس جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں جب بھی اساتذہ کی مجلسوں میں شرکت کرتا ہوں مجھے ایک خاص طرح کی اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔آپ کے درمیان میں خود کو کبھی بھی اجنبی نہیں محسوس کرتاہوں، میں خود معلّم تھا۔ میرے والدین اساتذہ تھے۔ میں اسی مٹی کی خوشبو سے آسودہ ہو کر تعلیم و تعلم کے میدان میں آگے بڑھا۔ اور پھر اسی مٹی کی زرخیزی نے میرے قلم کو روانی بخشی اور میں ادب کی دنیا میں داخل ہوا۔ وقت کے تقاضے کے مطابق بھلے سے میں نے معلّمی کے پیشے سے والنٹیری ریٹائرمنٹ لے لی مگر میں دل سے آج بھی معلم ہی ہوں۔ اس لیے معلموں سے محبت میری فطرت کا حصّہ ہے۔ آپ لوگوں نے جس محبت اور اپنائیت سے مجھے یہاں بلایا ہے میں اس کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتاہوں۔ اور سبھی اعزاز یافتہ اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔اس میںشبہ نہیں ہے کہ آج کچھ لوگوں نے ماحول کو مخدوش بنا دیا ہے۔ مگر یہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری یہاں کی سیاسی قیادت اور آپ سبھی اساتذۂ کرام نے محبت اپنائیت، اور انسانیت کا چراغ منہ زور آندھیوں کے سامنے جلائے رکھا ہے۔ آپ حضرات کی یہی محنت اور انسانیت نوازی ہمارے سماج، معاشرے، ریاست، اور ملک کو اخوّت کے ڈور میں باندھے رکھے گی۔ہم نے کتنی زندگی پائی اس کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی اس بات کی ہے کہ ہم نے کیسی زندگی جی اور نئی نسل کو کس قسم کی زندگی کے راستے پر چلنے پر آمادہ اور تیار کیا۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم بچوں کو علم کی دولت سے مالامال کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انسانیت کا پیکر بنائیں۔اس جلسے میں چالیس سے زائد اعزاز یافتہ اساتذہ کے علاوہ کثیر تعداد میں اساتذہ اور اہل علم و ادب اور فکر و نظر نے شرکت کی۔ باالخصوص مادھوکیشو ایچ، جی صدر کرناٹکا راجیہ سرکاری اسوسی ایشن شکاری پور۔ بی،آر،من جپّا ضلعی سرپرست کرناٹکا راجیہ کنڑا پرائمری اسکول اسوسی ایشن بنگلور۔چنیش تعلق سرپرست کرناٹکا راجیہ سرکاری پرائمری ٹیچرس اسوسی ایشن شکاری پور۔ناگیش کولّیر ضلعی سکریٹری کرناٹکا راجیہ سرکاری پرائمری ٹیچرس اسوسی ایشن شیموگہ۔ اور ٹی ، ایس، مرلی دھر بی، آر،سی شکاری پور نے شرکت کی۔ جلسے کا اختتام بی،آر،من جپّا کے شکریہ کے کلمات کے ساتھ ہوا۔
