حلال،جھٹکے کا معاملہ پیچیدہ ہونے لگا،بھدراوتی میں بجرنگ دل کی داداگری

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔شیموگہ ضلع کے بھدراوتی شہرمیں حلال  گوشت اورجھٹکا گوشت کا معاملہ پیچیدہ ہونے لگاہے اور بجرنگ دل کےکارکنان کی غنڈہ گردی زوروں پر  ہے،مگر تعلقہ کے رکن اسمبلی بی کے سنگمیش اور محکمہ پولیس اس پورے معاملے میں خاموشی اختیار کیاہوا ہے ۔آج بھدراوتی شہرکے مختلف گوشت کی دکانوں ، ہوٹلوں اور کھانے کے ٹھیلہ گاڑیوں پر پہنچ کر اس بات پر زور دیاگیاہے کہ وہ حلال گوشت کی  خریدوفروخت نہ کریں بلکہ جھٹکے سے کاٹا گوشت اور پکوان فروخت کریں،بعض ہوٹلوں پر انہوں نے گاہکوں کو بھی ہدایت دی کہ حلال کیاہوا گوشت نہ کھائیں اس سے ان کا دھرم بھرشٹ ہوجائیگا او روہ گناہ میں جائینگے۔بجرنگ دل کے کئی کارکنوں نے شہرکے مختلف مقامات پر صبح سے ہی دورہ کرتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ وہ مسلمانوں کے طرز پر گوشت ذبح نہ کریں بلکہ جھٹکےسے جانوروں کا قتل کریں۔اس پورے معاملے پر شیموگہ پولیس کی جانب سے کسی بھی طرح کی کارروائی نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی مقامی ایم ایل اے جن کا تعلق کانگریس سے ہے،انہوں نے بھی اس معاملے میں کارروائی کیلئے تعلقہ انتظامیہ کو اشارہ نہیں دیا ہے ۔ پولیس کی خاموشی بجرنگ دل کے غنڈوں کے حوصلے بلند کررہی ہے۔دوسری جانب اس بات کا بھی خدشہ بڑھنے لگاہے کہ کہیں قصائی برادری بجرنگ دل ودیگر ہندوتوا تنظیموں میں دبائو آکر ذبح گوشت کے علاوہ جھٹکے کا گوشت فروخت کرنے کیلئے تیارنہ ہوجائیں۔اس سلسلے میں کچھ قصائیوں کاکہناہے کہ جن ہندو علاقوں میں مسلمانوں کی ایک دو دکانیں ہیں وہاں پر مزاحمت کرنا مشکل ہے اور دبائو پڑھتا ہے تو مسلمان قصائی اپنے یہاں جھٹکے کا گوشت فروخت کرنے کیلئے علیحدہ ملازمین بھی رکھ سکتے ہیں۔ریاست میں اس وقت وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے بھی جھٹکا اور حلال گوشت کے معاملے کے تعلق سے جائزہ لینے کی بات کہی ہے لیکن انہوں نے بجرنگ دل اور دیگر ہندوشرپسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کےتعلق سے اب تک کسی بھی طرح کا بیان جاری نہیں کیاہے ۔کل تک بڑے کے گوشت کی دکانوں کے قصائی شرپسندوں کی شرارت سے پریشان تھے،اُس وقت چکن اور مٹن کے قصائی اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے تھے،مگراب پانی ان کے سرپربھی آپڑاہے اور یہ قصائی بھی پریشان ہونے لگے ہیں۔