بنگلورو:۔مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزبیانات دینےو الے بی جے پی لیڈروں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کیلئے کرناٹکا ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائرکی گئی تھی جس کی فوری سنوائی کرنے سے ہائی کورٹ نے انکارکیاہے۔کرناٹکا ہائی کورٹ کی ایک رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سُنایاہے۔مسلم سماج کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والے بی جےپی اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان کے خلا ف سوموٹو دائرکرتے ہوئے ان پر قانونی کارروائی کرنے کیلئے محکمہ پولیس کو احکامات جاری کروانے کیلئے منڈیا ضلع کے ناگمنگلاکے ساکن محمد کلیم اللہ نے ہائی کورٹ میں عرضی دائرکی تھی۔اس عرضی پر کورٹ نے سنوائی کرتے ہوئے اس بات سےانکارکیاکہ معاملے کی سنوائی فوری طورپر نہیں کی جائیگی۔وکیل رحمت اللہ کوتوال نے اس معاملے کی وکالت کی ہے،اس پر جسٹس ایس جی پنڈت نے یہ فیصلہ سُنایاہے۔ریاستی وزیر کے ایس ایشورپا،مرکزی وزیر شوبھا کرندولاجے،رکن اسمبلی بسناگوڈا پاٹل یتنال،ایم رینوکاچاریہ،سی ٹی روی، رکن پارلیمان تیجسوی سوریہ،پرتاب سمہاکے خلاف کارروائی کرنے کیلئے عرضی دائرکی تھی ۔
