شیموگہ: ۔ہمارے ملک کی بنیادانفرادیت میں ایکسانیت پر منحصرہے۔ ریاست کرناٹک اپنی انفرادیت اور مذہبی روایات، ہم آہنگی ، بھائی چارگی، تعلیم ، صحت اور خاص طور پر قدرتی دولت سے بھرپور یہ ریاست اپنی ہی خاص پہنچان رکھتی ہے۔ یہ کوئمپور جیسے عظیم شاعر کی زمین ہے جس نے ہمیشہ ہی ہندوستان میں رہنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کو بھائی چارگی اورمحبت کا درس دیا ہے۔ اس پاک زمین پر پچھلے کچھ سالوں سے کرناٹک میں مذہب۔مذہب کے درمیان زہر کا بیج ڈالکر صدیوں سے چلی آرہی مذہبی ہم آہنگی اوربھائی چارگی کو سنگھ پریوار توڑنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ یہ الزام ایس ڈی پی آئی نے لگایا ہے۔ سوشیل ڈیماکریٹک پارٹی آف انڈیا ضلع شیموگہ نے آج بی جے پی انتظامیہ اورسنگھ پریوار کی تانہ شاہی کے خلاف ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو احتجاجی دھرنا دیا ہے۔ اس دوران مظاہرین نے الزام لگایا کہ سنگھ پروار کی من مانیوں اورغلط سرگرمیوں کی پشت پناہی میں اشتعال انگیز بیانات، بھڑکائو تقریریں، کرنے والے سنگھ پریوار کے لیڈر کررہے ہیں۔ جس کی تازہ مثال اڈپی میں شروع ہونے والاحجاب کا تنازعہ جس نے پوری دنیا میں ریاست کرناٹک کے نام کو داغدار کرکے رکھا ہے۔حجاب اور زعفرانی شال کا تنازعہ ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ سنگھ پریوار کے چند نامور غنڈہ صفت افراد نے مسلم تاجروں کی تجارت پر حملہ کرنا شروع کردیا اور سوشیل میڈیا ، میڈیا اور دیگر ذرائعوں کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ کسی طرح کا کاروبار نہ کرنے پر پیغامات نشر کرنے لگے، اتنے سے بھی ان لوگوں کو سکون نہیں ملا جس کے بعد انہوں نے اپنارخ حلال کٹ اور جھٹکا کٹ گوشت کے کاروباریوں پر کردیا ہے۔ یہاں سنگھ پریوار کے غنڈے گوشت کی دکانوں، ہوٹلوں ، اسٹریٹ فوڈ ، کاروباریوں کوباقائدہ خبردار کرنا شروع کردیا کہ کوئی بھی حلال گوشت فروخت نہ کرے اورہندو صرف جھٹکاکٹ گوشت ہی خریدوفروخت کریں ۔اتناہی نہیں یہ لوگ ہندو کاروباریوں پر اس بات کا دبائو بھی ڈالنے لگے کہ وہ مسلمان خریدار کو دور کرنے کیلئے اپنی دکانوں میں صرف جھٹکا کٹ گوشت ہی فروخت کریں۔ اسطرح دن بہ دن نئی نئی ترکیبیں ، نئے نئے مسائل کھڑے کے سنگھ پریوار ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انکی حرکتوں پر فوراً ریاستی پولیس اورحکومت کو لگام لگانی چاہئے۔انکی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے ریاست کے امن وسکون، یکجہتی کو برباد کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کرنےکا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے ضلعی اراکین موجودتھے۔
