بنگلورو:۔کرناٹک میں حجاب،حلال او رتبدیل مذہب کے معاملات کے ساتھ ساتھ اب ایک نیا موضوع زیرِ بحث ہے ،جس کے مطابق فرقہ پرست تنظیمیں مساجدمیں لگائے گئے لائوڈ اسپیکرس کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔کرناٹک کی ہندوتوا تنظیموں نے اس بات کامطالبہ کیاہے کہ ریاست میں فوری طور پر مساجدمیں لگائے لائوڈ اسپیکرس کو ہٹائے جائیں ورنہ مساجدکے بالمقابل ہنومان چالیسہ اور گیتا کے شلوک کا ورد لائوڈ اسپیکر کے ذریعے سے اُس وقت تک کیاجائیگا جب تک کہ اذان اور نماز کا سلسلہ لائو ڈاسپیکر پر جاری رہے گا۔سر ی رام سینا کے سربراہ پرمود متالک نے اس سلسلے میں حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ مساجد پر لگائے گئے لائوڈ اسپیکر کو فوری طور پر ہٹایاجائے اور اسلامی عبادتوں کو لائوڈ اسپیکر میں پیش نہ کیاجائے۔اسی طرح سے کالی مٹھ کے سوامی رِشی کمارنے بھی متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہاکہ کیا مسلمانوں کا خدا بہرہ ہے جس کی وجہ سے مسلمان لائوڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہوئے عبادتوں کو انجام دےرہے ہیں۔رائچورمیں انہیں بیانات کے تناظرمیں فرقہ وارانہ پیدا ہوئی ہے جہاں پر اُگادی تہوارکے پیشِ نظر آج ہندو سماج کے ایک طبقے نے مسجدکے بالمقابل نمازکے وقت ڈی جے کا استعمال کرتے ہوئے ناچ گانا کیا ۔ضلع کے یروڈانا کی جامع مسجد کے بالمقابل یہ واقعہ پیش آیاہے۔کل دوپہر کے وقت جب لوگ نماز اداکررہے تھے،اسی دوران شرپسندوں کا ایک گروہ ڈی جے لیکر مسجدکے بالمقابل کھڑاہوگیااور زوردار آواز سے گانے لگائے گئے تھے،اس پر مسلمانوں نے مخالفت کی تو دونوں مذاہب کے درمیان حالات کشیدہ ہوئے اور دوسرے پر پتھرائوکیا گیا ۔اس سلسلے میں مقامی پولیس نے چالیس نا معلوم افراد پر معاملہ درج کیاہے جبکہ اس معاملے میں کسی نے بھی انفرادی طور پر شکایت درج نہیں کروائی ہے۔ پولیس نے معاملے کو لیکر ملزمان کے خلاف107 اور151 کی دفع کے تحت معاملات درج کئے ہیں ۔ اس پر کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے اعتراض جتاتے ہوئے کہاکہ اب تک اذان کامعاملہ نہیں تھا،آخر کس بنیاد پر اس معاملے کو اچھالاجارہاہے؟۔کمارسوامی نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں ریموٹ کنٹرول کی حکومت چل رہی ہے،آر ایس ایس کے اشاروں پر وزیر اعلیٰ کام کررہے ہیں،بی جے پی کی تائید جے ڈی ایس بھلے ہی کی ہو،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بی جے پی کی پالیسی پر خاموشی اختیارکی جائے۔اگر حکومت نے حجاب کے معاملے کو پہلے ہی قابومیں لایاہوتاتو یہ سب حالات پیش نہیں آتے۔
