شیموگہ میں نہیں ہیں آئی سی یو، آکسیجن اور بیڈ، ہراسپتال کو کوویڈ اسپتال میں بدلنے کا حکم
شیموگہ:آج جو ہم لکھ رہے ہیں وہ نہ تو سنی سنائی بات ہے ، نہ ہی اِدھر اُدھر سے موصول ہونے والی خبریں ہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے جسے بیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔ جو لوگ اب تک کورونا کو لیکر لطیفے بناتے رہے ہیں ، چٹکلے بناتے رہے ہیں اور کورونا کو جھوٹا کہتے رہے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ کورونا سردار جی نہیں ہےجومذاق کرے اور خاموش ہوجائے۔کوروناکی وجہ سے حالات صرف ممبئی،دہلی،احمدآباد ودیگر بڑے شہروںمیں خراب نہیں ہیں بلکہ اب چھوٹے شہروںمیں بھی کوروناکے مریضوںکیلئے بُری خبرہے۔کیونکہ اب کرناٹک میں بھی ہر سال اسپتال کے 50 فیصد بستروں کوکورونامریضوںکیلئے مختص کیاگیاہے،باوجود اس کے وینٹی لیٹر،آکسیجن اورآئی سی یو بیڈس دستیاب نہیں ہیں۔ یہاں موت کھولے عام گھوم رہی ہے، روزانہ صرف شیموگہ جیسے شہر میں ہی 20 سے 25 افراد موت کا شکار ہورہےہیں، حکومت صحیح اعدادوشمار نہیں دکھارہی ہے۔ اسکی وجہ یہ نہیں کہ حکومت اپنی ناکامی کو چھپائے بلکہ وجہ یہ ہے کہ لوگ مزید خوفزدہ نہ ہوں۔ لیکن ہم ہردن صبح اٹھ کر میتوں کی گنتی اسطرح سے کرنا چاہ رہے ہیں کہ مانو کے ہم لوگ کرکٹ میچ کے رن معلوم کررہے ہیں۔ یہ موت ہے ،اُنہیں کو اس بات کا احساس ہوتا ہے جن کے گھروں سے بیٹوں کی لاشیں نکل رہی ہیں ، مائوں کی میت نکل رہی ہے،باپ کا سایہ سرسے اٹھ رہا ہے۔افسوس اسلئے ہے کہ لوگ وباء کو وباء سمجھنے کے بجائے تعصب کے آئینہ سے ہرچیز کو دیکھ رہے ہیں۔ مسلسل اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ سرکاری کوویڈ اسپتالوں میں جگہ میسر نہیں ہے، جس کی وجہ سے نجی اسپتالوں کو کوویڈ اسپتالوں میں بدلنے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ کئی اسپتالوں کو کوویڈ کئیر سنٹر س میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ہر جگہ سے یہی سننے میں آرہا ہے کہ ہمارے پاس آکسیجن بیڈ نہیں، آئی سی یو بیڈ نہیں وینٹی لیٹر نہیں، ہاں ابتدائی علاج کیلئے معمولی بیڈ دستیاب ہیں باقی سب بھرتی ہوچکے ہیں۔ قبرستانوں میں تدفین کرنے کیلئے عملہ نہیں ہے، جو رضاکار تدفین کے کام میں لگے ہوئے ہیں انہیں گھڑی کی فرصت نہیں ہے اورجو لوگ یہ کہہ رہیں کہ یہ ایک افواہ ہے توان کے منہ میں چپل رکھیں اورسرپر دوماریں۔ جن لوگوں کو ان مشکل حالات میں شاپنگ کی لگی ہوئی ہیں یقیناً وہ انسانوں کی اولاد نہیں ہیں،کیونکہ لوگ مررہے ہیں اوریہ لوگ عید کی خوشیاں بٹورنے کیلئے بازاروں کا رخ کررہے ہیں۔ ایک طرف لوگ جانیں بچانیں کیلئے اسپتالوں کی خاک چھان رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمان کپڑوں کی خریداری کیلئے دکانوں کی خاک چھان رہے ہیں یقین مانئے، اسپتالوں میں آکسیجن نہیں ہیں، بیڈ نہیں ہے، سہولتیں نہیں ہیں ۔ اگر کچھ ہوتا ہے توآپ لوگوں کو اپنےبھروسے پر جینا ہوگا، بڑے سے بڑے سیاستدان کی سفارش کام نہیں آئیگی، مالدار کا پیسہ کام نہیں آئیگا ۔ افسروں کی دوستی کام نہیں آئیگی، احمد پٹیل جیسے سیاستدان سے بڑھ کر کوئی سیاستدان ہےجو کورونا کی موت سے مارے گئے۔ 30 سالوں تک مختلف ممالک میں سفیربن کر خدمات انجام دینے والے آئی ایف ایس آفیسر اشوک امروہی کو اسپتال میں بیڈ نہ ملنے کی وجہ سے 5گھنٹوں تک اسپتال کی پارکنگ میں کھڑا رہااوردم توڑ دیا!کیا اس سے بڑھ کر کوئی اورآفیسر ہوسکتا ہے۔ ہماری زندگی ہمارے ہاتھوں میں ہے، فالتو کے ویڈیو دیکھ کر گمراہ نہ ہوجائیں۔ فالتو کے تبصروں میں نہ الجھیں ، اگر پولیس سختی کرتی ہے تو وہ ہماری اچھائی کیلئے کرتی ہے نہ کہ تعصب کی وجہ سے، خود پولیس کی جان جس وقت دائو پر لگی ہےتو وہ تعصب کا آئینہ ڈالے کیوں گھومے گااور سڑکوں پر تو وہی لوگ زیادہ دکھائی دے رہے ہیں جنہوں نے شاید ہی کمانے کی فکر کی ہو، مسجدوں کے پاس خدا کی تلاش وہی لوگ کررہے ہیں جو عام دنوں میں شاید ہی کبھی مسجد کا رخ کرتے تھے، واکنگ کرنے کا جنون انہیں لوگوں کو اٹھاہے جو عام دنوں میں 12 بجے تک سوتے تھے۔ رمضان کے مہینے میں سموسے کھانے کا جنون سڑکوں پر ایسے لارہا ہے مانو کہ سموسوں کے بنا افطاری نہیں ہوتی۔ خودگھر میں ہیں، بیوی بچے بھی ہیں سب مل کر تھوڑا ہاتھ ہلالیں تو سموسے بھی بن جائیں گے پکوڑے بھی مل جائیںگے۔ہم عاجزی کے ساتھ آپ سے کہہ رہےہیں "خدا کے لئے گھروں سے باہر نہ نکلیں، پولیس کے ڈرسے نہیں بلکہ اپنوں کیلئے اپنے آپ کو محفوظ کریں”، اس وقت جو ہم لکھ رہے ہیں وہ ہمارے دل کی آواز ہے، یقیناً بے روزگاری کی وجہ سے لاکھوں چولہے بجھے ہوئے ہیں لیکن ان لاکھوں چولہے جلانے والوں کی لاکھوں لاشیں ، شمشان گھاٹ میں جل رہی ہیں۔ جو مٹی کا گھر اپنے لئے بنانے کیلئے نکلے تھی وہی لوگ آج مٹی میں دفن ہورہے ہیں، خدا کیلئے احتیاط کریں، اس عید میں کپڑے لانے کی چکر میں کہیں کفن لانے کا موقع نہ پڑجائے، بات کڑوی ہے لیکن سچی ہے۔
