دہلی:۔نیشنل ایجوکیشن پالیسی کو جاری کرنے کیلئے حکومتوں نے اقدامات اٹھائے ہیں لیکن اس کیلئے معقول تعدادمیں اسکولس کہاں ہیں؟یہ سوال اب کوئی عام آدمی یا اپوزیشن جماعتوں نے نہیں پوچھاہے جبکہ سپریم کورٹ کی سہ رکنی بینچ نے حکومت کے سامنے اٹھایاہے۔سپریم کورٹ کے یو یو للیتا،ایس آربھٹ،ٹی ایس نرسہماپر مشتمل سہ رکنی بینچ نے حکومت کو سوال کرتے ہوئے کہاکہ بعض موقعوں پر اسکول ہی نہیں بنائے جاتے ،جہاں اسکول ہوں وہاں اساتذہ نہیں ہوتے اورجہاں پر اسکول اور اساتذہ موجودہوتےہیں اُن اسکولوں میں بنیادی سہولیات نہیں ہوتیں،جب اس تعلق سے پوچھاجاتاہے تو پیسوں کی کمی کاحوالہ دیاجاتاہے۔عدالت عظمیٰ کی سہ رکنی بینچ نے اپنےفیصلے میں کہاہے کہ اس طرح کےمنصوبے رائج کرنے سےپہلے مالیاتی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔عدالت نے مزیدکہاکہ سال2005 میں جاری کئے گئے خواتین کے گھریلوتشددکی روک تھام کا قانون کو نافذ کرنے کیلئے اب تک معقول افسروں کو تعیناتی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ان خواتین کیلئے بازآبادکاری کے مقامات بنائے گئے ہیں۔ایسے میں این ای پی جیسے اہم اور وسیع منصوبے کیلئے تیاریاں کئے بغیرہی منصوبہ رائج کرنا مناسب نہیں ہے۔
