کرناٹک کوبی جے پی  دوسرا اترپردیش بنانے کی کوشش میں مصروف:کمار سوامی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
میسورو:۔یہاں کے کلامندر میں ”سروا جنانگادا شانتیا توٹا“ پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس تقریب کا اہتمام لوک نائک جے پی وچارا ویدیکے کی طرف سے کیاگیا تھا۔اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کہا کہ سال 2023میں منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میرے لئے زیادہ اہم نہیں ہیں،بلکہ ریاست کرناٹک میں امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور عوام کیلئے سکون کافی اہم ہے۔ فرقہ پرستی کا زہر گھولنے والے اور نفرت پھیلانے والے افراد کو چاہئے کہ وہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کی جانب توجہ دیں اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابوپانے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔کمار سوامی نے کہا کہ وہ دو مرتبہ وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں، اس لئے اب مزید اس کی تمنا نہیں ہے،عوام کے ووٹ بھی ان کیلئے اہم نہیں ہیں، عوام جسے چاہیں ووٹ دے سکتے ہیں، لیکن تمام فرقوں میں آپسی محبت اور بھائی چارہ اور میل ملاپ ان کیلئے سب سے اہم ہے۔ اس موقع پر کمار سوامی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی ریاستی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور ہر محاذ میں ناکامی کو چھپانے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی دو فرقوں کے درمیان آپس میں نفرت پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔ سیاسی مقصدکیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی حساس مسائل کو اچھالنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ یہ بالکل راون راجیہ ہے اور کسی بھی حالات میں رام راجیہ نہیں ہے۔ مولانا محمد ذکاء اللہ صدیقی صدرآل انڈیا ملی کونسل شاخ میسور ضلع نے کہا کہ ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانے کیلئے تمام فرقے کے لوگوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ جس کے بعد 1950میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی جانب سے لکھے گئے ہندوستان کے آئین کو اپنا یا گیا۔ جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو ہر طرح سے آزادی دی گئی۔ آج چند فرقہ پرست طاقتیں ہمارے اس ملک کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے دستور کر کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔کبھی تین طلاق کا مسائلہ، کبھی حجاب کا مسئلہ تو کبھی مسلمانوں کی دکانوں کا مسئلہ اور کبھی مسلمانوں کے ساتھ کاروبار کا مسئلہ اور اب جانوروں کے حلال کئے جانے کو مسئلہ بناکر مسلمانوں کیخلاف نفرتیں پیدا کرنے اور انگریزوں کی طرح پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کے اصول کو اپنائے ہوئے ہیں۔ مسلمان ہمیشہ سے اس ملک کے ہندو بھائیوں سے بھائی چارگی کا برتاؤ کیا ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ ملک نفرتوں سے آگے نہیں بڑھے گا، نفرتوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔