سب انسپکٹروں کی بھرتی کے گھپلے میں بی جے پی حکومت ملوث: پرینک کھرگے

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ کرناٹک میں پولیس سب انسپکٹروں کی بھرتی میں جو دھاندلیاں سامنے آئی ہیں،اس میں ریاست کی 40فیصد کمیشن والی بی جے پی حکومت کا ہاتھ ہے۔ یہ الزام سابق وزیر اور کانگریس کے ترجمان پرینک کھرگے نے عائدکیا۔ کے پی سی سی دفتر میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک اور ریاست میں بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف لاکھوں نوجوانوں کی زندگی کو برباد کردیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری نوکری ہر نوجوان کے لئے ایک بڑی امید ہے،لیکن سب انسپکٹرو ں کے تقرر کے معاملہ میں جو دھاندلی ہوئی ہے اس کے ذریعہ لاکھو نوجوانوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ والدین کافی مشکلات کے ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ ان کو آنے والے دنو ں میں سرکاری نوکری مل جائے گی۔انہوں نے کہا کہ 2020ء کے دوران ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی کہ سرکاری نوکریوں کے لئے تقرر ات کا آغا ز کیا جائے لیکن حکومت اس کے بعد سب انسپکٹروں کی بھرتی کے لئے محض دو نوٹی فکیشن جاری کرتی ہے،پہلے مرحلہ میں 545اور دوسرے مرحلہ میں 402جملہ 907اسامیوں کو پُر کرنے کیلئے نوٹی فکیشن یکم اپریل 2020کو جاری کیا گیا، اس کے بعد 14مئی کو جاری کئے گئے ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے اسپورٹس کوٹہ کو ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد 21جون 2021کو ددوسرا نو ٹی فکیشن جاری کر کے دوبارہ عرضیاں طلب کی جاتی ہیں۔545اسامیوں کے لئے 128598 عرضیاں موصول ہو تی ہیں۔3اکتوبر2021 کو تحریری امتحان لیا گیا۔اس وقت امیدواروں کے درمیا ن جو باتیں ہوئیں اس سے یہ سامنے آیا کہ دھاندلی ہو رہی ہے، اس سلسلہ میں یکم جنوری کو شکایت د رج کروائی گئی۔ اسی دن مزید 402 سب انسپکٹروں کی بھرتی کے لئے ایک اور نوٹی فکیشن جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دھاندلیوں کے متعلق خود ریاستی وزیر پربھو چوان اور بی جے پی کے دیگر اراکین اسمبلی نے وزیر داخلہ کو خطوط روانہ کئے ہیں پھر بھی اب تک کارروائی نہیں کی گئی۔7فروری کو ڈی جی پی کے منتخب امیدواروں کی عبوری فہرست پر روک لگائی، 12فروری کو اس سلسلہ میں یادگیر کے ایک زیراکس چلانے والے کو گرفتار کر کے اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ ان تمام کے باوجود مارچ کے دوران اسمبلی میں وزیر داخلہ نیچھ مرتبہ اس جھوٹ کو دہرایا کہ سب انسپکٹروں کی بھرتی میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔جب بی جے پی اراکین نے اس سلسلہ میں سوال اٹھائے تو وہ صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے کہ شکایت ملی ہے، اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملہ کی جانچ صحیح طریقہ سے کی گئی تو ریاستی کابینہ کے تین چار وزراء کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔ پرینک کھرگے نے کہا کہ 545میں سے تین سوسے زائد امیدواروں کا انتخاب دھاندلی کے ذریعے کیا گیا ہے اور ہر امیدوار کے انتخاب کے لئے 70تا80لاکھ روپے کی رقم لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دوسال کے دوران ریاست میں ایک نئی نوکری نہیں دی جا سکی، جبکہ ایک لاکھ سے زائد نوجوان بے روزگار ہو گئے۔