تیرتھ ہلی: ہمارا ملک مختلف مذاہب کا گلدستہ ہےاور اس گلدستہ کو ہمیشہ سرسبز وشاداب رہنا چاہئے۔ اس ملک کی زمین ، یہاں کی روایات ، یہاںکے تہذیب کے برعکس حیوانی جذبات اور حیوانی خیالات کو دلوں سے نکال پھینکیں اور باہمی اتحاد واتفا ق سے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں ۔ یہ اظہارخیال کلوے دُرگا کے راج گرو بھونگری مٹھ کے شری گرومرلی سدھا شیواچاریہ سوامی جی نے کہے ہیں۔ انہوں نےیہاں کے ٹائون پنچایت رکن رحمت کی قیادت میں شہر کے گنپتی بڑاونے میں ہندو۔ مسلم۔ کرسچن سمیت مختلف مذاہب کے پیشوائوں کے ہمراہ افطار کوٹہ پروگرام کااہتمام کیا گیا ۔ اس پروگرام کا افتتاح عمل میں لانے کے بعد سوامی جی نےکہا کہ انسان کی زندگی بہت انمول ہے۔ اس زندگی میں کسی کو خراب ذہنیت مل جاتی ہےتوکہا جاتا ہے کہ یہ پچھلے جنم کے اعمال کا پھل ہے۔ لیکن ہر ایک انسان کو محبت، ہم آہنگی سے رہنا چاہئے ،ہر ہندوستانی کو چاہئے کہ وہ محبت کے جذبات سے ہی پوری دنیا کو اپنا بنالیں ، ہمیں صرف بھارت کے بچے بن کررہنا ہوگا۔ہندو، مسلم ، سکھ ، یا عیسائی نہیں۔ فادر ولیم وینفریڈ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مساوات کیلئے ذات، مذہب ، دھرم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔لیکن اسی وجہ کو لیکر معاشرے میں جسطرح کی ترقی دیکھی جارہی ہے وہ نہایت ہی خوفناک ہے۔ انسان اگر انسانیت بھول جائے تو اسکا خاتمہ یقینی ہے۔ آج کے موجودہ حالات میں ہورہی ترقی اسکی ایک تازہ مثال ہے۔ انہوں نے کہاکہ قومی شاعر کوئمپو کی امیدوں کے مطابق تمام مذاہب کو آئین کے مطابق چلنا ہوگا۔ مسجد جلالیہ کے مولانا ابوبکر صدیق تنگل نے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں امن وسلامتی کو برقرار رکھنے میں میڈیا کا کردار اہم ہوتا ہے۔اسکو آگ میں تیل ڈالنے کا کام چھوڑ دینا چاہئے۔ قوموں کے درمیان رنجشیں پیدا کرنا، تشدد برپاء کرنے سے نقصان صرف معصوم لوگوں اورغریبوں کا ہوتا ہے۔ کورونا سے ہمیں سبق سیکھ لینا چاہئے تھا کہ اس مشکل دور میں ہمیں آپس میں علیحدگی اختیار کرنے کے بجائے ایک ہوکر ان حالات کا سامنا کرنا ہے۔ تمام مذاہب کے قائدین کو ایک ہوکر مذہبِ انسانیت کو بچانے کی گذارش کی۔ اس موقع پر جامعہ مسجد کے مولانا عبداللہ شریف موجودتھے۔
