دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات سے متعلق سازش معاملہ کے ملزم عمر خالد کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت کرتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) مخالف تحریک کے دوران دی گئی ان کی تقریر کو ناخوشگوار اور اشتعال انگیز قرار دیا۔جسٹس سدھارتھ مرڈول اور رجنیش بھٹناگر کی ڈویژن بنچ نے عمر خالد کی 17 مارچ 2020 کی تقریر کے ایک خاص جملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اظہار کی آزادی کے نام پر ایسی تقریر کرنا دنیا کے کسی کونے میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ دہلی پولیس نے ستمبر 2020 میں عمر خالد (34) کو گرفتار کرکے اس پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت دفعات لگائی تھیں۔ پولیس نے الزام لگایا کہ دہلی فسادات پہلے سے منصوبہ بند، گہری سازش کا حصہ تھے جو عمر خالد اور دیگر نے رچی تھی۔عمر خالد نے نچلی عدالت کی جانب سے ضمانت نہ دینے کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ نچلی عدالت نے گزشتہ ماہ یہ کہتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ ان کے خلاف یو اے پی اے بادی النظر میں درست تھا۔ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے ان کے کاموں کی مکمل جانچ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ دہلی کی عدالت نے ضمانت دینے سے کیوں انکار کر دیااور اس کی تقریر کو اس کے سامنے رکھنے کے لئے کہا۔عمر خالد سی اے اے مخالف مظاہروں کے واٹس ایپ گروپ کا حصہ تھا۔
عمر خالد کے دفاع میں اس کے وکیل نے کہا کہ وہ اس جرم کے لئے ان کے موکل کو سزا سنائی جا رہی ہے اس واقعہ کے وہ وقت دہلی میں بھی موجود نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ پوری دہلی میں تمام تشدد کی تقریباً 750ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اچانک 6 مارچ کو یہ تازہ ایف آئی آر آتی ہے اور اس ایف آئی آر میں عمر خالد کا نام ظاہر ہوتا ہے۔ اس ایف آئی آر میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ‘ عدالت نے پوچھا چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے؟’ تو کون سی دفعات لگائی گئی ہیں جن کے ساتھ آپ پر الزام لگایا گیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ الزامات طے نہیں کئے گئے۔ جب دوبارہ الزامات سے متعلق سوال کیا گیا تو وکیل نے کہا کہ افواہ، مائی لارڈ۔
عمر خالد کے وکیل نے بتایا کہ صرف ایک تقریر تھی۔ پولیس اس تقریر کے لئے درخواست کرنے والے ٹی وی چینلوں کے پاس گئی۔ چینلوں نے انہیں بتایا کہ انہیں یہ ایک سیاستدان سے ملا ہے۔ یہ تقریر امراوتی میں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ”اس کے علاوہ کوئی اور تقریر نہیں تھی،
تقریر ہندی میں ہے، خصوصی عدالت نے یہ نتیجہ بھی نہیں نکالا کہ تقریر اشتعال انگیز ہے۔” اس کے بعد ڈویژن بنچ نے تقریر کا متن طلب کیا جسے عدالت کے سامنے ہندی میں پڑھا گیا۔
عمر خالد نے اپنی تقریر میں امراوتی کو اپنا گھر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اس ‘گھر واپسی’ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن انھیں دوسری ‘گھر واپسی’ سے مسئلہ ہے۔ ان کے وکیل نے متن پڑھا اور بتایا کہ اپنی تقریر میں عمر خالد نے جدوجہد آزادی کے دوران برطانوی حکومت کے ساتھ آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا کے مبینہ روابط کا ذکر کیا تھا اور شاہین باغ میں ان تمام خواتین کا شکریہ ادا کیا جو ان کے خلاف پروپیگنڈے کے باوجود مظاہرہ پر بیٹھی تھیں۔
وکیل نے تقریر کا اقتباس پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ ”دہشت کے اس دور میں اگر کسی نے باہر نکلنے کی جرات کی تو وہ شاہین باغ کی خواتین تھیں، انہوں نے شاہین باغ کو بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن شاہین باغ کو خاموش نہیں کرایا جا سکا۔
ڈویژن بنچ یہاں بات روکتے ہوئے کہا کہ یہ جو تاثرات استعمال کیے جا رہے ہیں، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس سے لوگوں کو اکسایا جا رہا ہے؟ کیا آپ کو یہ نہیں لگتا کہ ‘جب آپ کے آباؤ اجداد انگریزوں کی دلالی کر رہے تھے، اشتعال انگیز زبان ہے؟’ عدالت نے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صرف ایک کمیونٹی انگریزوں کے خلاف لڑ رہی تھی۔ کیا گاندھی جی نے کبھی ایسی زبان استعمال کی تھی؟ کیا بھگت سنگھ نے کبھی اس کا استعمال کیا تھا؟ کیا گاندھی جی نے ہم سے یہی کہا تھا؟ ہمیں اظہار رائے کی آزادی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن یہ کیا زبان ہے؟ کیا آزادی اظہار ان بیانات کو وسعت دے سکتی ہے؟ کیا یہ 153A اور 153B کی دفعات سے میل کھاتا ہے؟
عدالت نے کہا کہ ‘ہمیں حیرت نہیں ہے کہ ایف آئی آر تقریر کے اس حصے پر مبنی ہے۔ بادی النظر میں یہ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ جمہوریت اور آزادی اظہار رائے دنیا کے کسی کونے میں قابل قبول نہیں ہے۔ عدالت نے سماعت کی اگلی تاریخ 27 اپریل مقرر کرتے ہوئے کہاکہ اگلی تاریخ پر برائے مہربانی اس معاملہ پر ہندوستانی فقہ بتائیں۔
