کلبرگی:۔ وزیر اعلی بسواراج بومئی نے کہا کہ پولیس اسٹیشن کی سطح پر امن میٹنگ کے ذریعہ اذان تنازعہ کو حل کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔بومئی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ عمل جاری ہے۔ تمام کو قانون پر عمل کرنا چاہیے۔ ہائی کورٹ نے اذان پر حکم دیا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایک سرکلر پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔ اس حکم کے تحت ڈیسیبل کی سطح بھی بتائی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پہلے ہی سرکلر جاری کر چکے ہیں۔خیال رہے کہ شری رام سینا سمیت کچھ ہندو تنظیمیں نوائز پولیوشن پر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ شری رام سینا کے صدر پرمود متالک نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگانے کے لیے 9 مئی کی ڈیڈ لائن دی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو مٹھوں اور مندروں میں لاؤڈ اسپیکر پر بھجن اور ہنومان چالیسہ بجائی جائیگی۔ایک سوال کے جواب میں بومئی نے کہا کہ حیدرآباد کرناٹک علاقہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔جو مسائل سامنے آئے تھے ان میں سے کچھ حل ہو گئے ہیں۔ ہم پہلے سے زیادہ متحد ہیں۔ کلیان کرناٹک خطہ کی ترقی کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم تمام کو ساتھ لے کر چلیں گے۔پی ایس آئی بھرتی گھپلہ پر بومئی نے کہا کہ دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور بے قاعدگیوں کی تہہ تک جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سخت سیکیورٹی اور شفاف انتظامات کے باوجود بے قاعدگیوں کا ارتکاب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بے قاعدگیوں کی شکایت موصول ہونے کے بعد فوری طور پر تفصیلی ابتدائی تحقیقات کریں۔ جوابی اسکرپٹ میں تضادات پائے جانے کے بعد معاملہ سی آئی ڈی کو سونپ دیا گیا تھا۔ عدالت کی نگرانی یا سی بی آئی جانچ کے اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے بومئی نے کہا کہ عبوری رپورٹ ملنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائیگا۔
