عید کا پیغام :تمام عالمِ اسلام کے نام

مضامین
از:محمد محسن خلیلی قادری۔8977864279
اس رمضان المبارک کاجائزہ لیاجائے تو کہنابجانہ ہوگا کہ مسلمانوں نے کافی حد تک صبر کامظاہرہ کیاکیونکہ اس رمضان میں سارے ہندستان میں خاص کرمسلمانوں کو ٹارگیٹ بنایاگیا اور جہانگیرپوری میں مسجد کے سامنے کے دروازے کو بھی توڑاگیااورمسجد کے اطراف میں دکانوں کو بھی توڑاگیااورکئی جگہوں پر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایاگیااورکئی جگہوں پر بے قصور مسلمانوں کو ہی مورودِ الزام ٹھہراکراریسٹ بھی کیاگیااوروہ لوگ ابھی بھی جیلوںمیں قید ہیں ۔یاد رکھئے ہمیں صبر سے کام لیناچاہئے کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ایک قول بھی ہے کہ ،’’اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی ‘‘ اوروہ اللہ کی لاٹھی ضرور ظالموں پر برسے گی ۔ رمضان المبارک رحمت ومغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے،لہٰذا اس رحمتوں اور برکتوں بھرے مہینے کے فوراً بعد ہمیں عید کی خوشی منانے کا موقع فراہم کیا گیا ہے اور عید الفطرکے روز خوشی کا اظہار مستحب ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت پر خوشی کرنے کی ترغیب تو قرآن کریم میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ سورۂ یونس کی آیت نمبر8 5 میں ارشاد ہوتا ہے:قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا-ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْن۔ترجمہ:تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت، اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں ۔خطبۂ عید کے وہ الفاظ جو عام طور پر عید کے خطبے میں پڑھے جاتے ہیں، وہ سنہرے ورق پر لکھے جائیں تو بھی شاید ان کا حق ادا نہ ہو،جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ’’عید ان کی نہیں جنھوں نے عمدہ لباس زیب تن کرلیا بلکہ عید تو ان کی ہے جو اللہ کی وعید اور پکڑ سے ڈر گئے۔عید ان کی نہیںجنھوںنے آج عمدہ خوشبوئوں کا استعمال کیا بلکہ عید تو ان کی ہے جنھوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور پھر اس پر قائم رہے۔عید ان کی نہیں جنھوں نے عمدہ کھانوں کی ڈشیں تیار کیں بلکہ عید تو ان کی ہے جنھوں نے حتی الامکان سعادت حاصل کی اور نیک بننے کی کوشش کی۔عید ان کی نہیں جنھوں نے دنیاوی زیب وزینت اختیار کی بلکہ عید تو ان کی ہے جنھوں نے تقویٰ اور پر ہیز گاری کو اختیار کیااور اسے اپنا توشہ بنایا۔عید ان کی نہیں جنھوں نے عمدہ عمدہ سواریوں،گاڑیوں پر سواری کی بلکہ عید تو ان کی ہے جنھوں نے گناہوں کو چھوڑدیا۔عید ان کی نہیں جنھوں نے اعلیٰ درجہ فرش سے اپنے مکانوں کوآراستہ کیا بلکہ عید تو ان کی ہے جو پل صراط سے گزر گئے۔
عید کا مقصد بے جا خوشی اور خرافات نہیں بلکہ یہ دن خدا کے شکر اور عبادت کا ہے۔اپنے خالق سے اپنا تعلق مضبوط بنانے کا دن ہے۔اللہ تعالی سے روحانی رشتہ جوڑنے کا دن ہے۔عید الفطر در حقیقت ذاتی احتساب کا دن ہے۔عید کا دن اپنے اندر خاص مقصد رکھتا ہے۔اس دن خاص روحانی رنگ ہونا چاہئے ۔ عید کے دن صرف نئے نئے ملبوسات زیب تن کرنا کافی نہیںبلکہ دل ودماغ بھی صاف رکھنا ضروری ہے۔عید دسترخوان سجانے کا نہیں بلکہ کردار سنوارنے کا نام ہے۔ہمیں اس دن بے جا دولت لٹانے کے بجائے کسی خاندان کو معاشی طور پر خودکفیل بنانے کی فکر کرنا چاہئے۔عید کا دن فقط ایک دن ہنسنے کا نہیں بلکہ زندگی مسکراہٹ میں بدل دینے کا نام ہے۔ صرف عید ہی کے دن نہیں بلکہ پورے سال ہمیں غریبوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔جب تک ہم عید غریبوں کے ساتھ مل جل کر نہیں منائیں گے اس وقت تک ہم عید کی حقیقی خوشیوں سے محروم رہیں گے۔عید ہمیں خوشی کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ اخوت اور اجتماعیت کی تربیت دیتی ہے ۔ خود احتسابی اور شکر گزاری کی دعوت دیتی ہے،قربانی اوربندگی کے بلند مقام تک پہنچاتی ہے،پاکیزگی اور تجدید ِعہد کا سبق دیتی ہے،تبدیلی اور انقلاب کا پیغام سناتی ہے۔عید الفطرکا دن کس قدر اہم ترین دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ کی رحمت نہایت جوش پرہوتی ہے، دربارِ خداوندی سے کوئی سائل مایوس نہیں لوٹا یا جاتا۔ ایک طرف اللہ کے نیک بندے اللہ کی بے پایاں رحمتوں اور بخششوں پر خوشیاں منارہے ہوتے ہیں تو دُوسری طرف مومنوں پراللہ کی اتنی کرم نوازیاں دیکھ کر انسان کا بد ترین دشمن شیطان آگ بگولہ ہوجاتا ہے۔حضرت سیدنا وہب بن منبہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب بھی عید آتی ہے، شیطان چلا چلا کر روتا ہے۔اس کی بدحواسی دیکھ کر تمام شیاطین اس کے گرد جمع ہوکر پوچھتے ہیں: اے آقا!آپ کیوں غضب ناک اور اداس ہیں؟ وہ کہتا ہے: ہائے افسوس! اللہ نے آج کے دن امت محمدیﷺ کو بخش دیا ہے، لہٰذا تم انہیں لذات اورنفسانی خواہشات میں مشغول کردو۔ (مکاشفۃ القلوب ص ۸۰۳)اورایک واقعہ جو عید کا انوکھاواقعہ ہے جومیں آپ لوگوں کو بتاناچاہتاہوں کہ حضرت سیدنا ذو النون مصری علیہ الرحمہ نے دس برس تک کوئی لذیذ کھانا تناول نہ فرمایا۔نفس چاہتا رہا اورآپ نفس کی مخالفت فرماتے رہے، ایک بار عید کی مقدس رات کو دل نے مشورہ دیا کہ کل اگر عید کے روزکوئی لذیذ کھانا کھالیا جائے تو کیا حرج ہے؟ اس مشورے پر آپ نے بھی دل کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی غرض سے فرمایا: ’’میں اولاً دو رکعت نفل نمازمیں پورا قرآن مجید ختم کروں گا، اے میرے دل! تو اگراس بات میں میرا ساتھ دے تو کل لذیذ کھانا مل جائیگا۔‘‘ لہٰذا آپ ؒنے دو رکعت نفل نمازادا کی اور ان میں پورا قرآن کریم ختم کیا۔آپؒ کے دل نے اس کام میں آپ کا ساتھ دیا ۔(یعنی دونوں رکعتیں دل جمعی کے ساتھ ادا کرلی گئیں) آپ ؒ نے عید کے دن لذیذ کھانا منگوایا، نوالہ اُٹھاکر منہ میں ڈالنا ہی چاہتے تھے کہ بے قرار ہوکر پھر رکھ دیا اور نہیں کھایا ۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: جس وقت میں نوالہ منہ کے قریب لایا تو میرے نفس نے کہا: دیکھا! میں آخر اپنی دس سال پرانی خواہش پوری کرنے میں کامیاب ہو گیا نا!میں نے اسی وقت کہا کہ اگر یہ بات ہے تو میں تجھے کامیاب ہونے نہیں دونگااور ہر گزہرگز لذیذ کھانا نہ کھاؤں گا۔چنانچہ آپ ؒ نے لذیذ کھانا کھانے کا ارادہ ترک کردیا۔اتنے میں ایک شخص لذیذ کھانے کا طباق اٹھائے حاضر ہوا اور عرض کی: یہ کھانامیں نے رات میںاپنے لئے تیار کیا تھا، رات جب سویا تو قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی، خواب میںحضور ﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی،حضور ﷺنے مجھ سے ارشاد فرمایا: اگر تو کل قیامت کے روز بھی مجھے دیکھنا چاہتا ہے تو یہ کھانا ذوالنونؒ کے پاس لے جا اور ان سے جا کر کہہ کہ ’’حضرت سیدنا محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ دم بھر کیلئے نفس کے ساتھ صلح کرلواور چند نوالے اس لذیذ کھانے سے کھا لو۔‘‘ حضرت سیدنا ذوالنون مصری ؒیہ سن کر جھوم اُٹھے اور کہنے لگے: ’’میں فرمانبردار ہوں،میں فرما نبردار ہوں۔‘‘اور لذیذ کھانا کھانے لگے ۔ (تذکرۃُ الاولیاء ج ۱ ص ۱۱۷)عید سعید کی بے شمار مصلحتیں اور مقاصد ہیں اس عید پر اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اور تاکید کے ساتھ مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اپنی خوشیوں میں غریبوں کو ضرور شریک کریں۔ روٹھے ہوؤں کو منائیں بچوں سے پیار کریں۔ بڑوں سے تعظیم و اکرام سے پیش آئیں اور خاص طور پر افلاس و غربت کے ماروں کو تلاش کرکے گلے سے لگائیں۔ اس دن صاحب نصاب عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے صدقۂ فطر ضرور ادا کردیں۔ کیوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ روزہ زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتا ہے جب تک کہ صدقۂ فطر ادا نہ کیا جائے۔اس لئے میں یہ پیغام تمام عالمِ اسلام کے نام کرتا ہوں کہ آپ نئے کپڑے خریدنے، رنگ برنگ کے سازوسامان اور لذیذ پکوان پر خرچ کرنے کے بجائے آس پاس میں بھوک سے نڈھال عوام کی مدد کر دیں۔جن کے گھروں میں کھانے کے لالے پڑے ہیں۔ دووقت کی روٹی کا بندوبست نہیں ہے اس کا بندوبست کردیں۔صدقہ فطرہ کی رقم یا غلہ فاقہ کش، مسکین کے حوالے کردیں۔ تاکہ وہ بھی آپ کی طرح خوشی میں شریک ہو سکے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں عید کی حقیقی خوشی نصیب فرمائے ۔آمین ۔