اسرائیل دراصل ایک ناجائز اور خود ساختہ ملک ہے 

مضامین
از:۔ مولانا حامد عمری‎
یورپ و امریکہ کی یو ٹیوب ایجاد ناجائز اسرائیل زمانہ دراز سے نہ صرف فلسطین کی مقدس سرزمین پرقابض ہے بلکہ قبلہ اول بیت المقدس ( مسجد اقصٰی ) کو اپنے خون خوار پنجوں میں جکڑ لینے کی جنونیت میں وہاں کے اصلی باشندوں پر ظلم و تشدد اور بربریت روا رکھا ہوا ہے ابھی ماہ رمضان کے وداعی جمعہ بیت المقدس میں تراویح میں منہمک نمازیوں پر جن میں مردوں کے علاوہ سینکڑوں خواتین بوڑھے اور بچے بھی تھا ناپاک عزائم کے ساتھ حملہ کر دیا تھا۔ جوابا اپنی جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کی گئی تو ظالم و جابر اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تشدّد کے پہاڑ توڑ رہا ہے بلکہ خواتین بوڑھے اور معصوم بچوں کی تمیز کیے بغیر ترقی یافتہ اورزیادہ سے زیادہ  تباہی مچانے والے جدید ترین وترقی یافتہ ہتھیاروں کے کے ذریعے اندھا دھند بم باری کرتے ہوئے خباثت و رزالت اورشدید ترین انسانیت دشمنی کو طشت ازبام کردیا ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق روزوں اور عید الفطر کی حالت میں ابھی تک بشمولیت خواتین و بچے سینکڑوں لوگ انتہائی بے دردی و انسانیت سوز طریقے سے شہید کر دیے گئے ہیں ‘ سینکڑوں کی تعداد میں اسکولس اور مدارس اسلامیہ کے علاوہ رہائشی عمارتیں زمین بوس کر دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہےکہ فلسطین میں اسرائیل اپنے ناجائز وجود کو مستقل طور پر قائم رکھنے کیلئے تقریبا گزشتہ7_ 8 دہائیوں سے اس طرح  کی خوف ناک جارحیت کو مسلسل جاری رکھا ہے۔ ظلم و تشدد اور بربریت کے تمام حدود کی کھلم کھلا پامالی کرنے کے باوجود انسان نما شیطان اسرائیل کو رتی برابر بھی شرم نہیں ہے بلکہ دنیاکے سب سے بڑے دہشت گرد کی جانب سے ہزاروں اور لاکھوں معصوم مسلمانوں کے بے دریغ قتل عام  کے باوجود امن و امان اور سلامتی کا پیغام عام کرنے والی عالمی قوتیں بالخصوص امریکہ و یورپی ممالک پر مجرمانہ خاموشی طاری ہے درحقیقت ناجائز اولاد کے ناجائز والدین سے امن وامان اور تحفظ انسانیت کی توقع عبث ہے یہی وہ دنیا کی ظالم وجابر عناصر ہیں جنہوں نے دنیا میں امن و امان باقی رکھنے کے بہانے گزشتہ چند دہائیوں میں عراق افغانستان شام لبنان اور یمن وغیرہ کی مسلم عوامی حکومتوں کا نام و نشان مٹا کر رکھ دیا_ بلکہ لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ پوری طرح نست اور نابود کرکے رکھ دیا ۔اس ظالم و جابر اور غاصب اسرائیل کا ہاتھ پکڑنے اور فلسطینی عوام پر مظالم ڈھانے سے باز رکھنے کے بجائے خاموش تماشائی ڈھانچہ بن گئے ہیں بلکہ نہتے کمزور اور ہتھیاروں سے خالی فلسطینیوں کی طرف سے اپنی جان مال عزت و آبرو کے تحفظ میں جو کچھ معمولی سی مزاحمت ہورہی ہے اسی کی مذمّت کی جارہی ہے _ تاریخ کے پننے کھول کر جائزہ لیں تو بیسویں صدی کے اوائل تک فلسطین کے اندر یہودیوں کی آبادی موجودہ کل آبادی کی صرف پانچ فی صد بھی نہ تھی ۔  خلافتِ عثمانیہ کا آخری زمانہ تھا دنیا بھر میں ذلت و رسوائی کا شکار در در کی ٹھوکریں کھاتے ہونے کے بعد یہود نے سلطان عبدالحمید خلیفہ کے روبرو گھٹنے ٹیک انتہائی عاجزی کے ساتھ درخواست کی تھی کہ انہیں فلسطین میں بسنے کی اجازت دی جائے ، اس کے بدلے وہ خلافتِ عثمانیہ کا تمام قرض تر اداکریں گے، قرض کا ڈھیر سارا بوجھ ہونے کے باوجود سلطان عبد الحمید نے انکی اس درخواست کو حقارت کے ساتھ نہ صرف ٹھکرا دیا تھا بلکہ بابانگ دہل کہا تھا کہ فلسطین کی ایک انچ زمین بھی منحوس و مبغوض یہودیوں کو نہیں دی جائے گی لیکن امت مسلمہ کی یہ بد قسمتی تھی کہ جنگ عظیم اول کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اورفلسطین پر نہ صرف قبضہ کرلیا بلکہ ایک سوچی سمجھے سازشوں کے تحت یہودیوں کو وہاں آباد ہونے کی اجازت دے دی تقریباً 1917 میں جہاں یہودیوں کی آبادی جو 25 ہزار تھی وہ پانچ برس کے عرصہ میں  38 ہزار ہوگئی، یہاں تک کہ 1939ء میں ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے تقریباًچار لاکھ پچاس ہزار تک پہنچ گئی۔ جنگ عظیم دوم کے دور میں جرمنی میں ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے یہودی بہت بڑی تعداد میں فلسطین میں آباد ہوئے اور۔ 1948 میں امریکہ اور یورپی یونین اور یورپی ممالک کی مدد سے باقاعدہ اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ جب سے آج تک "چوری سینا زوری کے مصداق”  مبغوض ملعون اور منحوس اسرائیل فلسطینی عوام پر جو وہاں کے اصل باشندے ہیں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ظلم و تشدد اور بربریت کی کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس قطعہ کی جو صورتحال رونما ہوئی ہے اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہےکہ بیت المقدس فلسطین اور وہاں کے باشندوں کی تباہی اور بربادی کے پیچھے امریکہ اور یورپ کی کارفرمائی کا انکار نہیں کیا جا سکتا حتی کہ بہت سارے مسلم عرب ممالک بھی اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر فلسطین کے خلاف اسرائیل کے معاون و مدد گار بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت فلسطین کی جو خوف ناک صورت حال ہے وہ گواہ ہے کہ انہیں اپنے ہی گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے حتی کہ دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ 1948ء میں پہلی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں اسرائیل فلسطین کے ٪78 حصے پر قابض ہوگیا تھا ، تاہم بیت المقدس و غرب اردن کے علاقوں پر مشتمل جو مشرقی یروشلم کے نام سے بھی منسوب ہے اسپر اردن کا قبضہ برقرار تھا ۔ لیکن 1967ء میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی اپنا تسلط جمالیا ۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں کوئی تعمیرات نہیں کی جاسکتیں تھیں لیکن ظالم اسرائیل نے ان قوانین کی خلاف ورزی بھی کرتے ہوئے فلسطین کے تمام علاقوں میں مسلسل یہودی کالونیاں بسا رہا ہے بلکہ آج تک بیت المقدس اور فلسطینی عوام پر ظلم و تشدد جاری ہے اور پوری طرح فلسطینیوں کو وہاں بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے پوری دنیا خاموشی کا پتلا بنی ہوئی ہے سوائے ترکی اور ایران فلسطین کے حق میں پرزور آوازیں بلند کررہے ہیں معلوم نہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا قرآن مجید میں یہود کا تذکرہ بہت تفصیل کے ساتھ وارد ہے جن پر اللہ تعالی جہاں بے شمار انعامات و احسانات کیے ہیں ان کی ان گنت نافرمانیوں کے بدولت تا قیامت تک اللہ تعالیٰ انہیں منحوس ملعون مبغوض بنا کر رکھ دیا ہے جبکہ انہیں دشمنوں کے مظالم سے نجات دی ، ان کے لیے آسائش و آرام کی سہولتیں فراہم کیں ، لیکن انہوں نے ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی ناشکری و نا فرمانی کرتے رہے ، انبیاء کی تعلیمات کا انکار کیا ، انہیں جھٹلایا اور ان کے قتل کے درپے رہے ، چنانچہ اللہ تعالی نے دنیا میں ان پر دائما ذلّت و رسوائی کو مسلّط کردیا۔ دنیا میں یہ جہاں کہیں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی ماریں ہی پڑتی رہیں۔ ایک طرح انسانی سماج پر ناقابل برداشت قوم ہے دراصل اس خبیث اور رزیل قوم سے نفرت ہی کی وجہ سے پوری دنیا اپنے دامن کو محفوظ رکھنے کے لئے زور و زبردستی مکر و فریب کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین میں لا بسایا تھا درحقیقت اللہ کے غیض و غضب میں گھری ہوئی بدترین قوم ہے محتاجی اور مغلوبی اس پر ہمیشہ کے لیے مسلط کردی گئی ہے فتنہ و فساد ، مال و دولت کی حرص مکر و فریبی ظلم و ستم قتل و غارت اس قوم کی فطرت ہے۔ چنانچہ مختلف حکم رانوں نے ان کی سرکوبی کی اور بڑے پیمانے پر ان کا قتلِ عام کیا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی ابتدا میں واقعۂ اسراء کے ذکر کے بعد ہی یہود کی تاریخ کے دو واقعات کا بیان ہے جب ان کے فتنہ و فساد اور سرکشی کے نتیجے میں ان کا زبردست قتلِ عام ہوا تھا ۔ چھٹی صدی قبل مسیح کا واقعہ ہے جب شاہِ بابل بخت نصر نے ہیکلِ سلیمانی کو پیوندِ خاک کر دیا تھا اور یہودیوں کا زبردست قتلِ عام کیا تھا اور ہزاروں کو جلا وطن کر دیا تھا ۔ دوسرا واقعہ 70ء کا ہے ، جب رومی جنرل ٹائٹس نے لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا تھا اور اتنی ہی تعداد کو غلام بنا لیا تھا۔ جبکہ فلسطین کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی وہ مسلمانوں کے زیرِ حکومت رہا وہاں انھوں نے عدل و انصاف قائم کیا اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ان کے مقدّس مقامات میں جانے اور وہاں عبادت کرنے میں کوئی روک ٹوک نہیں رکھی لیکن اسکے مقابلے میں جب بھی یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ جمایا تو انھوں نے مسلمانوں  کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ارضِ مقدس فلسطین پر یہود کے حالیہ قبضے کو ستّر 70 برس سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے اس مدت میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔آج بھی ہر دن فلسطینی عوام کے لیے قیامت بن کر آتا ہے ، ہر صبح ظلم و ستم کی ایک نئی داستان لکھتی ہے ۔ کون سا ظلم ہے جو ارضِ مقدس کے باسیوں پر روا نہیں رکھا گیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کو عالمی طاقتوں ، بالخصوص امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انھوں نے اس کی بہت زیادہ مالی اور فوجی مدد کی ہے اور اسے ہر قسم کا تعاون اور تحفظ فراہم کیا ہے ۔ اسرائیل کے لیے امریکہ کی حمایت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے _ حتی کہ امریکہ کے سالانہ بجٹ میں  باقاعدہ اسرائیل کے لئے حصہ ہوتا ہے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف منظور ہونے والی قراردادوں پر وہ ہمیشہ ویٹو طاقت کا استعمال کرتا رہا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اوریونیسکو میں فلسطین کی رکنیت کی مخالفت میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ بلکہ ابھی 13مئی بروز جمعرات کو فلسطین کی تازہ صورت حال کے تناظر میں منعقدہ اجلاس کو روک دیا گیا ۔ مقامِ شکر ہے کہ فلسطین کے غیور مسلمانوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اس ظلم ، غصب اور حق تلفی کو برداشت نہیں کریں گے اور ارضِ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے ۔ گزشتہ برسوں میں تحریکِ حماس نے فلسطینیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے مزاحمت و مقابلہ اور شجاعت کی بے مثال داستانیں رقم کی ہیں ۔ انھوں نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ ارضِ فلسطین کو صہیونیوں کے ناپاک قبضے سے آزاد کراکے ہی دم لیں گے ، چاہے اس راہ میں انہیں کتنی ہی جانوں کی قربانی پیش کرنی پڑے۔ چنانچہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے کہ وہ متحدہ طور پر دامے درمے سخنے فلسطینیوں کی بھرپور تعاون کریں دراصل فلسطین کی جنگ اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔ اس اہم موقع پر امام الکعبہ الشیخ سعود الشریم کا ایک تاریخ ساز بیان آیا ہے کہ فلسطین کی یہ جنگ کفر اور اسلام کے درمیان ہے یہ فروعی مسئلہ نہیں ہے لہذا مسلمانوں کو کفر کے خلاف فلسطین کا ساتھ دینا ہوگا لیکن مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو اسرائیل کی اس  جارحیت کے خلاف جس طرح متحد ہوکر آواز بلند کرنا تھا اور جس طرح پوری طرح اہل فلسطین کی حمایت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا ، افسوس کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اس موقع پر ہمیں اپنی ذمے داری ادا کرنی چاہیے اور جو کچھ کرسکتے ہیں اس میں دریغ نہیں کرنا چاہیے اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ اگر اس کے کسی عضو میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اس سے متاثر ہوتا ہے اور بخار اور بے خوابی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ “ (بخاری :6011 ، مسلم: 2586) اس لیے ہماری ذمے داری ہے کہ فلسطین کے اپنے مظلوم بھائیوں سے یک جہتی کا اظہار کریں ، ان کے درد کو محسوس کریں اور ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر و استقامت بخشے ، ان کی قربانیوں اور شہادتوں کو قبول فرمائے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :
” تم میں سے جو شخص کوئی مُنکر (بُرا کام) ہوتا ہوا دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے ، ایسا نہ کر سکے تو زبان سے ایسا کرے ، وہ بھی نہ کرسکے تو دل سے ایسا کرے ۔ (ابوداؤد : 4340) ہم اسرائیل کی جارحیت کو ہاتھ سے روکنے پر قادر نہیں ہیں تو اپنی زبان و قلم کا استعمال تو کرسکتے ہیں۔ چونکہ سوشل میڈیا میں اسلام دشمن قوتیں بہ
یک وقت انفرادی اور اجتماعی طور پر اسرائیل کو معصوم ثابت کرنے اور فلسطینی عوام کو ظالم و جابر کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ یہاں رہتے ہوئے فلسطین کی سچائی کو سوشل میڈیا کے ذریعے پیش کریں ۔