بنگلور:۔ کرناٹک میں ایک تاجر کو ایک روپے کے پرانے سکے کے عوض ٹھگوں نے 56 لاکھ روپے کا دھوکہ دے دیا۔ اس کے بعد اس سے 26 لاکھ روپے اینٹھ لئے گئے۔ اس دھوکہ سے نالاں ہوکر تاجر نے خود کو آگ لگا کر خودکشی کر لی۔کرناٹک پولیس کے مطابق واقعہ بنگلور سے 60 کلومیٹر دور چکبالا پور کا ہے۔ یہاں اروند نامی ایک چھوٹے تاجر کے پاس 1957 کا 1 روپے کا 6 دہائی پرانا سکہ تھا۔ اس نے سنا تھا کہ پرانے سکوں کی آن لائن نیلامی میں اچھے پیسے ملتے ہیں۔ اس لیے اس نے اپنا سکہ بھی آن لائن نیلامی کے لیے کسی ویب سائٹ پر ڈال دیا۔ اس دوران وہ فراڈگینگ کے جال میں پھنس گیا۔متأثرہ تاجر کی گفٹ شاپ ہے۔ پولیس کے مطابق دھوکہ باز نے فون پر اروند سے رابطہ کیا اور سکہ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس نے اروند سے سکے کی تصویر بھیجنے کو کہا۔ پھر بتایا کہ وہ اس سکے کے بدلے 56 لاکھ روپے دے سکتا ہے۔ جب اروند اس پر راضی ہوا تو اس نے ان سے پروسیسنگ فیس کے نام پر 2,000 کسی کھاتے میں جمع کرائے۔ اس کے بعد مختلف بہانے سے رقم مانگتا رہا۔ اس طرح وہ تقریباً 26 لاکھ روپے لے گئے۔ پھر ایک دن اس کا فون بند ہو گیا۔اروند نے دھوکہ باز کو رقم دینے کے لیے بیوی کے زیورات گروی بھی رکھ دیئے تھے۔ دوستوں سے قرض بھی لیا تھا۔ بیوی کو بھی اس کا علم نہیں تھا۔ اسی لیے جب اسے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ دھوکہ دیا گیا ہے تو وہ صدمہ برداشت نہ کر سکا۔حکام کے مطابق جب متأثرہ شخص کو لگا کہ اس کے پاس کچھ نہیں بچا تو اس نے اپنی زندگی ختم کرلینے کا انتہائی فیصلہ کیا۔ وہ شہر سے باہر ایک سنسان سڑک پر پہنچ گیا۔ وہاں اس نے اپنا اسکوٹر ایک مندر کے پاس کھڑا کیا۔ خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔ اس سے قبل اس نے اپنے دوست کو بھی واٹس ایپ میسج بھیجا تھا۔ لیکن اس کے دوست مصروفیت کی وجہ سے بروقت پیغام نہ دیکھ سکے تھے۔جب رات میں اس کے دوست نے یہ پیغام دیکھا، تو اس نے فوراً پولیس کو اس کی اطلاع دی، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، اور اروند کا انتقال ہو چکا تھا، پولیس نے لاش قبضے میں لے کر کاغذی کاروائی میں مصروف ہے۔
