انسانی جانوں سے متعلق حکومتوں کی لاپرواہی انسانیت کا قتل : سید سیف اللہ

اسٹیٹ نیوز

داونگیرے:۔ پہلے سے معلوم ہوتے ہوئے مہلک وبائی مرض کورونا سے عوام کی حفاظت کے لئے تیاری نا کرنا حکومتی سطح پر انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے جن میں آکسجن کی قلت سے چامراج نگر میں 24 لوگوں کی موت کی سیدھے طور پر ذمہ داری حکومت کے سرجاتی ہے اسی طرح ریآست بھر میں کہیں بھی لوگوں کو حکومت پر اعتماد نہیں ان حالات میں ہر طرف سے مرکزی و ریاستی حکومت کے خلاف عوام کا غم و غصہ ابل کر پھوٹ رہا ہو ایسے میں فطرت سے مجبور تیجسوئی سوریہ نے اپنے اندر کے زہریلے پن کا ثبوت دینے اور حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک مخصوص طبقہ کے خلاف زہراگلتےہوئے ذمہ داری پر مامور 206 لوگوں میں سے صرف سترہ لوگوں کے نام پڑھے جو مسلمان ہیں۔ تیجسوئی سوریہ نے مزید زہراگلتے ہوئے کہا کہ کیا یہ مدرسہ ہے اس سے ان کی سوچ کا پتہ چلتا ہے جس پر پورے ملک سے مسلمان تو نہیں بلکہ غیرمسلموں کی جانب سے سوریہ کی جگ ہنسائی جو ہورہی اس سے اندازہ ہوتا کہ ملک کی عوام نے مذہب کے نام پر جو چوٹ کھائی اب پھر دہرانے کے موڑ میں نظر نہیں آرہی اس لئے کہ بھارت کے شہری اب پوری طرح بیدار ہوچکے ہیں روزانہ اخبارات سوشیل میڈیا وغیرہ پر حقیقت آشکار ہونے لگی کہ اس وبا ءکا شکار ہونے والے افرادکے قریب جانے سے بھی کترایاجارہاہے ۔ اس قیامت خیز ماحول میں کوئی پورے احتیاط سے لے جاکر ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کررہا ہے تو وہ مسلم نوجوان جو بلا تفریق مذہب ملت انسانوں کی اس دکھ کی گھڑی میں اپنے تمام معاملات کو پس پشت ڈال کر جس جذبہ صادق سے مسلم نوجوان فی سبیل اللہ خدمت خلق کے لئے کمر کس کے میدان میں نکل آیا دنیاں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا تو سچائی سامنے آنے لگی بالکل ایسے پچھلے دور میں بھی مسلم حکمرانوں کے خلاف بے تکے الزامات لگاتے تھے اور جب ان حکمرانوں اور فوجیوں کا عوام سے سامنا ہوتا تھا تو مواوزنہ کرتے پہلے سے پھیلا،ی گئی افواہوں اور سامنے موجود حقیقت کا تو لوگ بے ساختہ پکار اٹھتے جوقوم اس قدر انسانوں کے جذبات و احساسات کی قدر کرتے ہون ان کے مذہب کا کیا کہنا ۔ اب بھاچپا اور اس کی حلیف پارٹیوں نے کئی دہائیوں سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے اگلتے جب اقتدار تک پہنچی تو ملک میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار نا سکی ۔ حکومت کے ماتحت بہت سارے محکموں کو نجی طور پر کارپوریٹر سیکٹر کو بیچتے چلی گئی ملک کی معیشت کو کمزور کرتی چلی گئی پچھلے سال کورونا کا معاملہ اچانک آیا پھر بھی احتیاط اپناتی حکومت تو ایرپورٹ کے اطراف فلاٹس حکومت اپنی نگرانی میں لے کربیرونی ممالک سے آئے لوگوں کو وہیں رکھ کر نیگیٹو ہونے کے بعد اپنے گھروں کو بھیج سکتی جس سے ملک میں اندرونی طور پر اس وبا سے لوگوں کو بچایاسکتا تھا اور اس مرتبہ جبکہ پہلے سے پتہ ہوتے ہوئے اس قدر لاپرواہی ۔ ریاستی وزیر اعلیٰ جو بھاچپا سے ہوتے ہوئے بھی مذہبی منافرت کی سیاست سے اوپر اٹھ کر جدوجہد کو اپناتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچے جن کے بارے میں ریاست کے تمام طبقات میں ایک اچھی سوچ ہے مگر بھکتوں کی جانب ان پر کیا معاملات ہیں وہ جانیں وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ خدمت خلق بہت بڑاکام ہے اس میں کسی کے زیراثر رہ کر انسانی جانوں سے نہ کھیلیں بلکہ سوریہ جیسے لوگوں پر لگام کسنے کی کوشش کرین اور چامراج نگر میں انسانی جانوں سے ہوئی کھلواڑ کو سی بی آئی تحقیقات کراکر خاطیوں کو سزا دلوائے ۔ملک کی عوام اب کسی بھی صورت میں مذہب کے نام کسی قسم کے فریب کا شکار نا ہونگے ۔ ان خیالات کا اظہار ملت تعلیمی ادارہ جات کے بانی سید سیف اللہ نے کیا اور مزید ایک بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مہلک وبائی مرض کورونا کی دوسری لہر کا شکار اکثر نوجوان ہورہے ہیں یہ نوجوانوں میں اپنے اندر کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے ہر فرد کو چاہئے کہ جوبھی اس وبا سے بچنے کی تدبیریں ہیں محکمہء صحت کے مشورے کے مطابق حکومت کی جانب سے جو بھی ہدایات ہیں ان پر عمل لازمی ہے خوف سے باہر نکل کر احتیاط کو اپنائیں۔