ہمدرد ایجوکیشنل اینڈ چاریٹبل ٹرسٹ ہبلی کا تہنیتی جلسہ ; ’’اُردو زبان تمام ہندوستانیوں کی میراث ‘‘:وینکپا کاملؔ کلادگی

اسٹیٹ نیوز
ہبلی:۔’’یہ عصر حاضر کا بڑا المیہ ہے یا بدقسمتی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت منافرت پھیلانے والوں نے اُردو زبان کو صرف مسلمانوں سے جوڑ کر اس کے ساتھ ناروا اور امتیازی سلوک برتنے میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوگئے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ خود مسلمان بھی اس پروپیگنڈا کے قائل ہوتے جارہے ہیں۔ اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ یہ زبان اسی مُلک میں پلی بڑھی ، کیا ہندو کیا مسلمان سب اس کے گرویدہ ہوکر رہ گئے اور یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اُردو زبان تمام ہندوستانیوں کی میراث ہے۔ ان خیالات کا اظہار وینکپا کاملؔکلادگی اُردو کے معروف شاعر ،سابق رکن کرناٹک اُردو اکیڈمی بنگلورو ریٹائرڈ ائرکٹر فیزکل ایجوکیشن ، کرناٹک کالج دھارواڑ نے یہاں گورنمنٹ ماڈل اُردو گرلس اسکول نمبر 1 ، طبیب لینڈ ہبلی میں ہمدرد ایجوکیشنل اینڈ چاریٹیبل ٹرسٹ ہبلی کی جانب سے منعقدہ تہنیتی جلسہ میں طلباء وطالبات ، ٹیچرس اور والدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ مزید آگے کہا کہ اُردو زبان کی وسعت بہت بڑی ہے۔ یہ اپنے اندر کئی ایک زبانوں کے الفاظ کو سموئے ہوئے ہیَ جیسے ایک ایسا گلدستہ جسمیں ہر قسم کے پھول لگے ہوئے ہوں۔ یہ زبان بڑی شیریں ، شائستہ اور شگفتہ ہے نیز کانوں میں کھنک پیدا کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔ موصوف نے مذید کہا کہ تیس ، چالیس سالوں میں اُردو زبان کو بڑے ہی منظم طریقے سے ختم کرنے کی کوششیںہورہی ہیں اور بھی حقیقت ہے کہ خود اُردو والوں نے ہی اس کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا ۔ ہم اسٹیج پر اردو کی بقا اور فروغ کیلئےبڑی باتیں کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو غیر اردو مدارس میں داخلہ دلواتے ہیں اور دوسروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اردو سیکھائیں اور بڑی حد تک اساتذہ برادری بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہے۔ آج ہر اردو دان یہ چاہتا ہے کہ اس کا اپنا بچہ انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کرے اور نتیجہ صورتحال یہ بنی ہوئی ہے کہ اسکولوں میں اردو طلباء کی تعداد گھٹ رہی ہے اور اردو اسکول رفتہ رفتہ بند ہورہے ہیں۔وینکپا کلادگی نے آخر میں طلباء وطالبات کو مشورہ دیا کہ اپنا زیادہ تر وقت پڑھائی پر مرکوز کریں، اپنی زندگی میں ڈسپلین پیدا کریں اور اس سابقتی دور میں اپنے آپ کو پوری طرح تیار رکھیں تاکہ ہر میدان میں کامیاب وکامران رہیں اور کہا کہ طلباء پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا خیال رکھیں روزانہ ورزش کو معمول بنالیں اور یاد دہانی کروائی کہ اچھی صحت ایک اچھے دماغ کی ضامن ہوتی ہے۔ طلباء وطالبات اسپورٹس مشغولیات میں بھی حصہ لیتے رہیں۔ موصوف نے کہا ڈاکٹر جمیل احمد اپنے ٹرسٹ کے تعاون سے اپنے والدین سید غوث اور حبیب شاہ مُلا کی یاد میں ہر سال مختلف اسکولوں میں میڑک میں نمایاں مارکس حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کی ہمت افزائی کے لیے انعامات، ٹرافی سے نوازتے ہیں اور تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی سی جدوجہد کرتے ہیں یہ بہت بڑی بات ہے اور یہ اس میموریل ایوارڈ کے ذریعہ پیغام بھی ہے کس طرح ان کے والد پیدائشی گونگے اور بہرے ہونے کے باوجود اپنی غربت وافلاس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایک کچے مکان میں رہتے ہوئے اپنے پانچوں بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا اور ان کی پانچوں اولادیں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہے اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ اس موقع پر دوسرے مہمان اسپیکر ایم ایس مُلاّ ، پرنسپال ٹیپو شہید انسٹی ٹیوت آف ٹکنالوجی (پالی ٹیکنک) ہبلی نے کہا ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بچے کی ابتدائی تعلیم اس کی اپنی مادری زبان میں ہی ہونا چاہیئے۔ بچہ اپنی مادری زبان میں سوچتا ہے ، طلباء جتنا سمجھیں گے اتنے ہی سوالات وہ اساتذہ سے کریں گے اور طلباء کے سوالات کرنے سے انکی ذہن سازی ہوتی ہے۔ مذید کہا کہ طالب علم کی اگر مادری زبان پہ گرفت مضبوط ہوتو دوسری زبان بڑی آسانی سے سیکھ سکتاہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا جب شاعر مشرق علامہ اقبا ل جرمنی جاکر جرمن زبان میں تعلیم حاصل کرنا چاہی تو وہاں کے اساتذہ نے انہیں پہلے جرمن زبان سیکھنے کی صلاح دی پھر علامہ اقبال نے جرمن زبان سیکھی اور یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور جرمن زبان میں فائنل تھیسس ، ڈیولیپمینٹ  آف میٹھا فزکس اِن پر شیہ میں پیش کئے اور پی ایچ ڈی حاصل کی ۔مزید پرنسپال ایم ایس مُلانے طلبا کو مشورہ دیا کہ نہ صرف نصابی کتب پر تکیہ کریں بلکہ دیگر رسائل سائنسی میگزین اور اخبارات پڑھتے رہیں انہوں نے اساتذہ سے درخواست کی کہ اسکول میں بُک بینک قائم کریں اور طلباء کو نصابی کتب کے علاوہ دیگر سائنسنی وادبی رسالے پڑھنے کی ترغیب دیں تاکہ بچوں میں پڑھنے کا رجحان زیادہ ہو۔ اور کہا کہ طلباء اردو زبان کے ساتھ ساتھ کنڑا اور انگریزی زبان پہ بھی عبور حاصل کریں اور یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ آج کے جدید ٹکنالوجی اور یوٹیوب کے زمانہ میں طالب علم پانچ زبانیں آسانی سے سیکھ سکتاہے۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے پرنسپال یم۔ یس ملا نے کہا کہ انہیں اس اسکول سے قلبی لگائو بھی رہا ہے کیونکہ اس اسکول سے انکی والدہ نے اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور یہ اعزاز بھی اس اسکول کوحاصل ہے۔ 1952 میںاندراگاندھی نے اس اسکول کا احاطے میں طالبات سے خطاب کیا اور تعلیم نسواں پہ زور دیا تھا اور کہا کہ میری والدہ بھی اس جلسہ میں شریک تھیں۔  قلندر یم ۔ نالبند ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر جلسہ کے معزز مہمان نے کہا کہ اساتذہ پر یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پیشے سے انصاف کریں ۔ ان کے ہاتھوں کئی ایک نسلیں پروان چڑھتی رہتی ہیں اور اس پیشے کو بس ایک نوکری سمجھ کر نہ کیاجائے بلکہ یہ ایک طرح سے ملی فریضہ بھی ہے کہ طلبا کی ذہنی وفکری تربیت پر ہماری پوری توانائی صرف ہو۔ طلباء کے اندر موجود خداد صلاحیتوں کو پہچانیں انہیں مذید پروان چڑھائیں تاکہ طلباء اپنی محنت اور ان خدا صلاحیتوں سے فیض یاب ہوتے ہوئے اپنا مستقبل روشن اور تابناک بنائیں۔ ڈاکٹر جمیل احمد چیرمن ہمدرد ایجوکیشنل ٹرسٹ ہبلی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ٹرسٹ ہمیشہ اس بات پر کوشاں رہا کہ طلباء میں تعلیم کے تئیںشعور پیدا ہو۔ تعلیم کی قدروہ منزلت کو پہچانیں ۔ اس اغراض ومقاصد کے تحت ٹرسٹ ہرسال مختلف اسکولوں اور ہائی اسکولوں میں اول نمبرآنے والے طلباء وطالبات کو ایوارڈ وانعامات سے نوازتا آرہاہے تاکہ ان طلباء وطالبات کی مذید ہمت افزائی ہو اور ساتھ ساتھ دوسرے ساتھی طلباء کو بھی ترغیب ملتی رہے۔ آخر میں ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ طلباء سخت محنت کریں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور اپنا مستقبل سنواریں نیز اس مُلک کے ایک اچھے شہری بنیں اور سب سے بڑکر ایک اچھا انسان بنے اوروطن عزیز کو ترقی کی طرف لے جانے میں کلیدی رول ادا کریں۔ دوران جلسہ وینکپا کاملؔ کلادگی اور قلندایم۔ نالبند کی ان کے اردو وادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں تہنیت پیش کی گئی اور ساتھ ساتھ اسکول کے ہیڈ ماسٹر اے ہوسپیٹ قاضی بھی جن کا ریٹائرمینٹ قریب ہے انہیں بھی تہنیت پیش کی گئی۔ پروگرام میں مختلف اسکولوں سے نمایاں نمبرات حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کو انعامت ، ٹرافی سے نوازہ گیا۔ پروگرام کاآغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیاگیا۔ پروگرام کی نظامت ممبر عرشیہ خاتون نے نبھایا۔ عائشہ پٹھان معلمہ گرلس اسکول نے مہمانوں اور تمام شرکاء جلسہ کا شکریہ اداکیا۔ پروگرام میں ایس ڈی ایم سی چیرمن آئی یم مکاندار ٹیچر طلباء وطالبات ووالدین شریک رہے۔