شیموگہ :شری رام سینا کے سربراہ پرمود متالک نے میڈیا کے ذریعے سپریم کورٹ کے دئے گئے احکامات کو بلائے طاق رکھتے ہوئے قانون کے خلاف اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں انہیں قانون کے تحت ہی دفعہ153اے ،153، 120، 295، 506،انڈین پینل کوڈ 1806 کے تحت سیکشن 15 ،غیر قانونی سرگرمیوں کو انجام دینے کیلئے پرویشنل ایکٹ1957 کے تحت پرمود متالک کو گرفتار کیا جاناچاہئے۔ یہ مطالبہ شیموگہ کانگریس شعبہ اقلیت نے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ایس سیلوامنی سے کیا ہے۔ شیموگہ ضلع کانگریس اقلیتی شعبے کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے کارکنوں نے شکایت کی ہے کہ سپریم کورٹ کےا حکام کی خلاف ورزی کررہی حکومت اوراحکامات کی پابندی کرنے سے انکا کرنے والوں پر گولی داغی جائیگی اسکے بعد بھی اذان پر پابندی لگائی جائیگی۔ وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کو اُترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی 25 فیصد ہندوتوا کو قبول کرنا چاہئے ۔اگر ہم ہندو مت پر عمل کریںگے تو ہم مستقبل قریب میںپوری قوت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔اسطرح کے بیانات دے کرپریم کورٹ کے احکامات کو الٹ پلٹ سامنے رکھنے والے شری رام سینا کے سربراہ پرمودمتالک ریاست کے امن وسکون ، خوشخالی کو بدامنی میں تبدیل کرنا چاہ رہے ہیں وہ ریاست میں فساداورتشدد پیدا کرنے کی کوشش کررہے پرمود متالک کو فوری طور پرگرفتار کیا جانا چاہئے اوراس شخص پر سخت سے سخت قانونی کارروائی کرنے کیلئےشیموگہ ضلع کانگریس اقلیتی شعبے نے ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی۔ساتھ کہا کہ اس درخواست کے ذریعہ جو شکایت کی جارہی ہے اسے قبول کرنے کی بھی گذارش کی ۔اس موقع پر شیموگہ ضلع کانگریس اقلیتی شعبے کے صدر محمد عارف اللہ، ضلع کانگریس کے جنرل سکریٹری نیتاجی اقبال، کانگریس اقلیتی شعبے کےسٹی صدر محمد نیہال (نیلو) سائوتھ بلاک کانگریس کے نائب صدر عظمت پاشاہ، کانگریس اقلیتی شعبے کے سٹی نائب صدر عرفان موجودتھے۔
