دہلی:۔ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور ٹی وی چینلز پر اس کی کوریج پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایڈیٹرز گلڈ نے پیغمبر اسلام کو لے کر تنازع اور کانپور تشدد کے حوالے سے ملک کے قومی چینلز کی کوریج پر سوال اٹھائے ہیں اور ساتھ ہی اس معاملے کی مذمت کی ہے۔ایڈیٹرس گلڈ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کچھ قومی نیوز چینلز کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے پریشان ہے، جو جان بوجھ کر ایسی صورت حال پیدا کر رہے ہیں جس سےکمزور کمیونٹیز کے تئیں نفرت پھیلا کر نشانہ بنایا جا رہاہے ۔ایڈیٹرس گلڈ (ای جی آئی) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ملک کے کچھ ٹی وی چینلز سیکولرازم سے ملک کی آئینی وابستگی کے ساتھ ساتھ صحافت کی اخلاقیات اور رہنما اصولوں سے بھی آگاہ ہوتے تو ملک کو غیر ضروری شرمندگی سے بچایا جا سکتا تھا۔بتادیںکہ بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس کے بعد ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کئی مسلم ممالک نے بھارت کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اب تک تقریباً 15 ممالک اس معاملے میں اپنی مخالفت کا اظہار کر چکے ہیں۔ایڈیٹرس گلڈ (ای جی آئی) نے اپنے بیان میں کچھ ٹی وی چینلز کا موازنہ ’ریڈیو روانڈا‘ سے کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ چینلز ریڈیو روانڈا کی اقدار سے متاثر ہو کر ناظرین کی تعداد میں اضافہ اور منافع کماتے تھے، جس کی وجہ سے افریقی ممالک میں نسل کشی ہوئی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق روانڈا کی نسل کشی کے دوران جن اہم افراد کو ہلاک کیا جانا تھا ان کے نام ریڈیو پر نشر کیے گئے۔ 100 روزہ قتل عام میں تقریباً 8 لاکھ توتسی اور اعتدال پسند ہوتو مارے گئے تھے۔ایڈیٹرس گلڈ نے ٹی وی چینلوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تازہ ترین فرقہ وارانہ معاملات کا خود جائزہ لیں۔ اس کے ساتھ ہی گلڈ نے میڈیا اداروں سے ایسے واقعات پر کڑی نظر رکھنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ’میڈیا کی ذمہ داری آئین اور قانون کو برقرار رکھنا ہے، اور غیر ذمہ داری اور احتساب کے فقدان کی وجہ سے اسے توڑنا نہیں ہے۔
