ضلع کانگریس کی جانب سے روہت چکراتیرتھا کی گرفتاری کا مطالبہ

ڈ سٹرکٹ نیوز
شیموگہ:بدھ، بسوا، امبیڈکرجیسے مضامین کو نصاب سے ترک کرنے والےنصابی کتابوں کی نظرثانی کمیٹی کے چیرمین روہت چکراتیرتھا کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئےآج ضلع کانگریس صدر ایچ ایس سندریش کی قیادت میں ضلع کانگریس کمیٹی کی جانب سے شہر کے مہاویر سرکل میں ایک احتجاجی جلوس نکالاگیا، اس دوران احتجاجیوں نے روہیت چکراتیرتھا کی تصویر کو نظرآتش کرتے ہوئےاپنے غم وغصے کا اظہار کیا۔ ایچ ایس سندریش نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ روہت چکراتیرتھا کے علاوہ وزیر تعلیم بی سی ناگیش کو بھی کابینہ سے برطرف کرنے پر زور دیا ہے۔مزید کہا کہ بی جے پی ٹیکسٹ پروسیسنگ کے نام پر جان بوجھ کر آئین ساز امبیڈکر کی توہین کی ہے۔ گاندھی جی کی زندگی کو بدل کر لکھا گیاہےاور بسونا کی طرز زندگی میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے۔سب سے بڑا جرم تو یہ ہے کہ جس شخص کو کنڑا کی معلومات تک نہیں ہےاسے نصابی کتابوں کی نظرثانی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اس نے اس ملک کے تمام ادیبوں کی توہین کی ہے۔ اس نے کوئمپو کی توہین کی ہے۔الزام لگایا گیا کہ ریاست بھر میں نصابی کتاب کے تنازع پر احتجاج کے باوجود حکومت کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم بھی بےتعلق بیانات دے رہے ہیں۔ اتنے تنازعہ کے باوجود وزیر تعلیم بی سی ناگیش اس بات کو قبول نہیں کررہے ہیں لہٰذا انہیں فوری طور پر کابینہ سے برخاست کیا جانا چاہئے۔الزام لگایا کہ نصابی کتب کے ذریعے طلباء میںمذہبی تعصب کا جراثیم پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہیں عظیم شخصیوں کی زندگی نہیں چاہئے۔ حال ہی میں سامنے آئے تیجسوی سوریااورآرایس ایس ایجنڈےکے مضامین کو نصاب میں شامل کرنا پسند ہے،لیکن یہ ایک ملک غدار عمل ہےکہتے ہوئے غصے کا اظہار کیا ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس سال طلباء کو پرانی کتابیں دے اور انتباہ دیا کہ اگر نئی نصابی کتابیں متعارف کروائی گئیں تو کانگریس اپنی جدوجہد بڑے پیمانے پرجاری رکھے گی۔اس موقع پرچندر بھوپال، این رمیش، ایل رامے گوڑا، ناگراج، کے رنگناتھ، محمد نہال،ثمینہ بانو،وغیرہ موجودتھے۔