شیموگہ:(خصوصی رپورٹ مدثراحمد):۔پچھلے دس دنوں میں شیموگہ ضلع کے مختلف مقامات سے تین خواتین مع اپنے بچوں کے ساتھ گھر چھوڑکر فرارہوئی تھیں،ان میں سے دو خواتین کا معاملہ عشق کا ہے اوریہ خواتین باقاعدہ بچوں کی مائیں ہیں،مسلم معاشرے میں خواتین کا اس طرح سے رننگ ریس کرنا تشویش کا باعث بنتاجارہاہے۔شیموگہ ،بھدراوتی میں اس طرح کی وارداتیں پیش آئی ہیں،شیموگہ کے ایک واقعے میں ایک خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ اپنے شادی شدہ عاشق کے ساتھ فرارہوئی ہے ، یہ بات اورہے کہ عشق کے چکرمیں دونوں کو دونوں کے چار بچے ہیں پالنا پڑیگااورانہیں عشق کی رنگ رلیاں منانے کیلئے وقت نہیں ملے گا،باوجوداس کے اس طرح کی حرکت کو انجام دے چکے ہیں۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ،اس طرح کے واقعات روزبروز بڑھ رہے ہیں،جس میں خاص طور پر شادی شدہ خواتین یاتو شادی شدہ مردوں کے ساتھ بھاگ رہی ہیں یاپھر نوجوان لڑکوں کے جال میں پھنستی جارہی ہیں۔اس طرح کی وارداتوں کا جائزہ لیاگیاتو یہ وجوہات سامنے آئی ہیں جو سماج کے ذمہ داروں کیلئے غوروفکرکی بات ہے۔
تعلیمی پسماندگی:۔
؎عام طورپر سلم علاقے سے تعلق رکھنےوالی خواتین اس طرح کی حرکتوں میں ملوث پائی جاتی ہیں،ان میں نہ صرف عصری تعلیم کا فقدان ہے بلکہ یہ لوگ اپنے دین کے علم سے بھی ناواقف ہیں اور ان میں اچھے بُرے کی تمیز نہیں رہتی ہے ۔ اس طرح کے مردو خواتین تعلیمی پسماندگی کا شکارہوتے ہیں اور وہ حال ومستقبل کی فکر کئے بغیر ہی ناجائزرشتوں کا شکارہوکر صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ جڑے ہوئے خاندانوں کی تباہی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔
مردوں میں نشے کی لت:۔
دو دہائیوں سے یہ بات عام ہوچکی ہے کہ مسلم معاشرے میں شراب سے زیادہ سستے نشے کی عادت میں نوجوان ملوث ہوتے جارہے ہیں ۔ گا نجہ، افیم،سلوشن،نشے کی گولیاں اورکھانسی کی سیرپ کے استعمال سے نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے نہیں نبھاتے،ان کے والدین ان نوجوانوں کو صحیح راستے پر لانے کیلئے ڈاکٹروں اور ریہاب سینٹرس میں داخلہ دلوانے کے بجائے کسی کی بچی کو شادی کرلے آتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ شادی کے بعد ان کابچہ سدھرجائیگا،لیکن یہ سدھرنے کے بجائے اپنی اورا پنے بیوی بچوں کی زندگی بھی تباہ کردیتا ہے۔ان حالات میں لڑکیاں ازدواجی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کی طرف مائل ہوتی ہے اور ناجائز رشتوں کا شکارہوجاتی ہیں،کچھ ہی دن میں یہ لڑکیاں اپنے نشے باز شوہر سے دورہونے کیلئے عاشقوں کے ساتھ فرارہوجاتی ہیں۔
معاشی بدحالی:۔
مسلم معاشرے میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ متوسط اور غریب طبقے کے نوجوان کماتے کم ہیں دکھاتے زیادہ ہیں،اگر وہ ہفتے میں دو تین دن کمابھی لیتے ہیں تو دس دن بیٹھ کر کھاتے ہیں،جس کی وجہ سے ان کے گھر معاشی بدحالی کا شکارہوجاتے ہیں۔ان کی معاشی بدحالی کا فائدہ آوارہ یاپھر مالدار لوگ اٹھاتے ہیں اور ایسے گھروں کی خواتین کا استحصال کرتے ہوئے انہیں ان کے غیر ذمہ دار شوہرسے نجات دلانے کا وعدہ کرتے ہوئے بہلاپھسلاکر انہیں عارضی سکون کا سامان بنالیتے ہیں اور انہیں گھر چھوڑکرنکلنے کیلئے مجبورکرتے ہیں۔
مائکروفائنانس(سنگھا):۔
مائکرو فائنانس کے آغازکے بعد سے بھی مسلم خواتین کی ازدواجی زندگیوں میں ایک طرح سے سکون غائب ہوچکاہے،ضرورت سے زیادہ خواہشات کی وجہ سے خواتین سودی قرضوں کی عادی ہوچکی ہیں ، ان قرضوں کو لیکر اس کی ادائیگی کے تعلق سے ہونےوالی بے ضابطگیوں کے بعد یہ خواتین مائکرو فائنانس کی ادائیگی کیلئے کچھ خواتین غلط راستے اختیار کرلیتی ہیں یاپھر انہیں غلط راستہ اختیارکرنے کیلئے مجبورکیاجاتاہے۔جس کے سبب یہ خواتین اپنی خاصی زندگی کو تباہ کرلیتی ہیں۔
ناپسندی کی شادیاں:۔
جہاں عشق کے معاملات میں معاشی بدحالی ،مائکروفائنانس،نشے کی لت ،تعلیمی پسماندگی اور دین سے دوری وجوہات ہیں،اس میں ایک وجہ لڑکوں اور لڑکیوں کی ناپسندی کی شادیاں بھی ہیں۔اکثر والدین اپنے بچوں کی پسند ونا پسند کا جائزہ لئے بغیرہی شادیاں کردیتے ہیں،اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی آگے ہونے کے ساتھ ساتھ عشق ومعشوقے کے ذرائع بھی اڈوانس ہوچکے ہیں،ایسے میں اکثر والدین بچوں کی ذہنی کیفیت،خیالات اور پسند کا جائزہ لئے بغیرہی اپنے اسٹیٹس اور اپنی خواہش کے مطابق زبردستی شادی کربیٹھتے ہیں،اگر شادی سے پہلے ان بچوں کا کہیں عشق وغیرہ چل رہاتھا تو وہ عشق ان کے دلوں میں شادی کے بعد بھی اکثر پرورش پاتے رہتاہے اور کچھ ہی دن میں یہ عشق شوہر یا بیوی سے بغاوت پر اترآتاہے،پھر اپنے پُرانے عشق کو حاصل کرنے کیلئے گھروں سے فرارہوجاتے ہیں۔
نقصان کس کا؟۔
لاپتہ اور فرارہونے کی جو وارداتیں پیش آرہی ہیں،ان وارداتوں سے نہ صرف بھاگنے والے جوڑوں کا نقصان ہے،بلکہ ان جوڑوں سے جڑے ہوئے خاندان،رشتہ دار،قوم اور سماج کو بھی بہت بڑانقصان اٹھاناپڑسکتاہے۔اگر کوئی خاتون اپنے بچوں کو لیکر کسی غیرکے ساتھ فرارہوتی ہے تو ظاہرسی بات ہے کہ اس کے شوہرکو اس کا بہت بڑا نقصان ہوگا،ساتھ ہی ساتھ جو شخص بچوں کے ساتھ عورت کو بھگا لے جاتاہے وہ کچھ دنوں تک ان بچوں کی سرپرستی کریگا،لیکن کچھ دنوں بعد وہ ان بچوں سے بیزارہوجائیگا،نہ صرف بچوں سے بیزارہوگا بلکہ خاتون سے بھی وہ دوری اختیارکرنے لگے گا ،کیونکہ ناجائز رشتہ ہمیشہ ناجائزہی رہتاہے۔اسی طرح سے اُس مرد کے بیوی بچوں پر بھی سماجی ونفسیاتی دبائو بڑھنے لگتاہے اور وہ ایک طرح سے جیتے جی ہی مرجاتے ہیں۔ان پر لگنےوالاداغ نہ صرف ان تک محدودرہتاہے بلکہ نسلوں تک سماج میں ان پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔حالانکہ ٹی وی سیریلس اور فلموں کودیکھ کر کچھ لوگ اسے فیشن سمجھ بیٹھے ہیں،لیکن یہ فیشن کچھ وقت کیلئے ہی ہوتاہے،جس طرح سے پچھلے سال کپڑوں کے ڈیزائن کا فیشن الگ تھا،اس سال الگ ہوجاتاہے،اسی طرح سے ان رشتوں کا فیشن بھی بدلنے میں وقت نہیں لگتا۔یہ رپورٹ مختلف ایف آئی آر اور عدالتی کارروائیوں کے دلائل پر مشتمل ہے ۔
