بھدراوتی میں بھی انجمن کے ماتحت احتجاجی جلوس،قصورواروں کو کڑی سزادینےکا ہوا مطالبہ

شیموگہ:۔شیموگہ شہرمیں آج سُنی جمعیۃ العلماء کمیٹی کے ماتحت توہین رسالتﷺ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیااور قصورواروں کو فوری طور پر سزادینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس دوران احتجاجی جلسے میں بڑے پیمانے پر عاشقانِ رسول کی شرکت ہوئی اور ہر ایک فردکے زبان پر لبیک یارسول اللہﷺکے نعرےجاری تھے۔بعد نماز جمعہ شہرکے عیدگاہ میدان میں کثیر تعدادمیں لوگ جمع ہوئے تھے،توہین رسالت ﷺ کی مذموم کوشش کرنے والی نوپور شرماکے خلاف نعرے بازی کی گئی ،ساتھ ہی ساتھ علمائے کرام نے اپنے خطاب میں کہاکہ نوپور شرماجیسے لوگ بھارت کی سالمیت کیلئے نقصاندہ ہیں،مسلمان ہرچیز برداشت کرسکتے ہیں لیکن توہین رسالت کو برداشت نہیں کرسکتے۔یہ شرمناک بات ہے کہ دُنیا کی عظیم شخصیت پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی شان میں گستاخیاں کی جارہی ہیں اور حکومت خاموش تماشابین بیٹھی ہوئی ہے۔اس احتجاج کا مقصد صرف یہی ہے کہ جس نے بھی نبی کریمﷺکی شان میں گستاخی کی ہیں آج اُس گستاخی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے احتجاج درج کراناہے۔مفتی عاقل رضا نے احتجاج میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیغمبر اسلام ﷺکی شخصیت کوئی معمولی شخصیت نہیں ہے،بابائے قوم مہاتماگاندھی نے خود اس بات کااعتراف کیاہے کہ رسولِ محمد ﷺسے بڑی شخصیت کے بارے میں میں نے کہیں نہیں پڑھاہے۔اس دوران مزید ایک خطیب مولاناسہیل احمد غزالی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ جب ہم کسی اور مذہب کے خدائوں یاعبادت گاہوں کے خلاف کچھ نہیں کہتے ہیں تو کیونکر اسلام کے پیغمبروں اور عبادت گاہوں پر تنقیدکی جاتی ہے؟۔یہ مسلمان ہی قوم ہےجو صبرکے ساتھ کام کررہی ہے اور اسی صبرکاسبق ہمارے پیغمبرﷺنے دیاہے۔اس موقع پر مرکزی سُنی جمعیۃ العلماء کمیٹی کے سرپرست اقبال حبیب سیٹھ ،آفتاب پرویز،کلیم پاشاہ(کلیمہ)حسن علی خان آفریدی ، محمدحُسین،سکریٹری اعجازاحمد،محمدارشاد کے علاوہ علمائے کرام وعمائدین بھی موجودتھے۔اسی طرح کاایک احتجاج بھدراوتی کے انجمن اسلام کی نگرانی میں کیاگیاجہاں پرنمازکے بعد احتجاجی ریالی نکالی گئی۔اس موقع پرمرتضی خان،پیر شریف،حاجی باباجان،حُسین صاحب،ظہیر جان، جاوید خان،سید عبدالرحمان دلدار،مولانا سید غوث،کے جی این کمیٹی کے اراکین سمیت کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔جبکہ بیجاپورمیں بھی توہین رسالتﷺ کرنے والی بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرماکے خلاف مولانا تنویر ہاشمی کی قیادت میں ڈپٹی کمشنرکے ذریعے یادداشت پیش کی گئی۔واضح ہوکہ ملک کے مختلف مقامات پراہانت رسولؐ کے خلاف مسلم ممالک کے احتجاج درج کرانے کے بعد کئی دنوں سے خاموش بیٹھے مسلمانوں نے بھی آواز اٹھانی شروع کر دی ہے۔ جمعہ کی نماز کے بعد ملک کے کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے اور گستاخ رسولؐ نوپور شرما اور نوین جندل کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ اس دوران مظاہرین کو قابو میں کرنے کے لئے پولیس کو کافی مشقت کرنا پڑی۔واضح رہے مسلم قائدین اور علماء نے اپنے بیانات اور اعلانات کے ذریعہ لوگوں کو یہ باور کرانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ آج جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج نہ کریں اور نماز سے فارغ ہو کر سیدھے گھر جائیں۔ اس کے باوجود مختلف مقامات مسلمانوں نے نماز کے بعد جمع ہو کر نعرے بازی کی۔خیال رہے کہ بی جے پی کی معطل ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی ڈبیٹ کے دوران پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ مسلم ممالک نے نوپور شرما کے بیان کی مذمت کی اور ہندوستان کے سامنے احتجاج درج کرایا۔ اس کے بعد بی جے پی نے نوپور شرما کو پارٹی سے معطل کر دیا۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد نوپور شرما نے بیان پر افسوس ظاہر کیا اور اپنا بیان بھی واپس لے لیا۔ تاہم مظاہرین کو مطالبہ ہے کہ نوپور شرما کو گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
