بنگالی بابوکی باتوں میں نہ آئیں،اپنی عقل لگائیں
شیموگہ:۔آئی ایم اے،ایمبیڈینٹ جیسی کمپنیاں حلال کمائی کے نام پر حرام خوری کرتے ہوئے جو زخم دئیے تھے، وہ زخم ابھی پوری طرح سےبھرے بھی نہیں ہیں،ایسے میں مارکیٹ میں نئی نئی کمپنیاں اپنا جلوہ دکھاتے ہوئے لوگوں کو ٹھگنے کاسلسلہ شروع کرچکی ہیں،انہیں کمپنیوں میں ایک کمپنی ایس ڈی ایف ایکس ہے جس کی کوئی نہ جڑہے نہ ہی شاخ ہے ۔ باوجود اس کے بڑے پیمانےپر لوگ اس کمپنی میں اپنی محنت کا سرمایہ لگا رہے ہیں۔کولکتہ کاپتہ بتانےوالی اس کمپنی کے کچھ ایجنٹ ہیں جو بھاری کمیشن کی خاطر لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے7سے8 فیصد تک کا منافع دینےکا دعویٰ کررہے ہیں۔سونےپر سہاگہ اس دھندے کو حلال دھندے کا نام دے رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق کئی لوگ اس حلال کے نام پر چلائے جارہے ٹھگی میں لاکھوں روپیوں کا سرمایہ لگا چکے ہیں اور اب تک اُنہیں منافع بھی مل رہاہے۔اسی منافع کو دیکھتے ہوئے دوسرے لوگوں کو بھی اس جال میں پھانس رہے ہیں۔انقلاب نے اس کمپنی کی حقیقت کا جائزہ لیاتو ایس ڈی ایف ایکس گلوبل نام کی کوئی کمپنی نہ تو حکومت سے منظور شدہ ہے نہ ہی یہ کمپنی، کمپنی ایکٹ میں رجسٹرہے۔جب اس تحقیق کے بعد اس کمپنی کا پرچارکرنےوالے ایک بنگالی سے انقلاب نیوزنے پوچھ تاچھ کی تو اس نے سرے خارج کیا کہ ایس ڈی ایف ایکس کوئی کمپنی نہیں ہے بلکہ ایک ٹرسٹ ہے،اس ٹرسٹ میں تعلیم اور صحت کیلئے کام کیاجاتاہے اور لوگ خوشی سے اس ٹرسٹ کوپیسے دے رہے ہیں۔جبکہ حقیقت میں ایس ڈی ایف ایکس کمپنی ہو یاٹرسٹ سرمایہ کے عوض میں جو منافع دے رہی ہے وہ سراسر اس کی ٹوپی اُس کے سر،اُس کی ٹوپی اِس کے سر،کا کھیل کھیل رہی ہے ۔ آخرمیں بڑی تعدادمیں لوگ دھوکہ کھانےوالوں میں سے ہیں۔شیموگہ میں اسی بنگالی بابوکے جال میں پھنس کر بہت سارے لوگ سرمایہ لگاچکے ہیں،فی الوقت تواُنہیں نفع مل رہاہے،لیکن آنےوالے دنوں میں لوگوں کوسوائے دھوکے کے اورکچھ نہیں ملے گا۔کوئی بھی کمپنی 7تا8 فیصد کامنافع نہیں دے سکتی،اگر ایسی کمپنیاں منافع دے بھی رہی ہیں تو اُنہیں ایس ای بی آئی نامی سرکاری ادارے سے یاپھر آربی آئی کے ماتحت کام کرناہوگا،تبھی جاکر اسے صحیح کمپنی مانا جاسکتاہے۔آئے دن سافٹ وئیرس اور موبائل اپلیکیشن کے ذریعے سے انوسٹمنٹ کرواکر لوگوں کو ٹھگاجارہاہے،ہیراگولڈ،آئی ایم اے، ایمبیڈینٹ سمیت کئی کمپنیاں پہلے ہی کرناٹک میں 10 ہزار کروڑ روپیوں سے زیادہ کا دھوکہ دے چکی ہے،اب دوبارہ لوگ اس طرح سے نفع کے چکرمیں آکر دھوکہ کھانے سے گریزکریں۔اگر کوئی کمپنی یا اسکیم کے ذریعے سے نفع دینے کا دعویٰ دینے کا دعویٰ کرتے ہیں ، ایسے میں ان پر شبہ ہوتو لوگ راست طورپر انوسٹرس ایجوکیشن اینڈ پروٹکشن فنڈ اتھاریٹی(آئی ای پی ایف) پورٹل کی ویب سائٹ www.iepfprotal.inپر رپورٹ کرسکتے ہیں۔اگر کوئی کہتاہے کہ حلال کاروبارہے تو حلال کاروبارکا سب سے پہلے سینٹرکامعائنہ کریں ، حلال سرٹیفکیٹ ہی نہیں بلکہ علماء کے اعلیٰ ترین پینل جو بھارت میں دیوبند، بریلی، ندویٰ جیسے دارالعلوم سے رجوع کرتے ہوئے ان کمپنیوں کی تصدیق کرلیں،ورنہ حلال منافع کے نام پر زندگیاں حرام کردینگے۔
