داونگیرے:۔ معروف تعمیراتی ادارہ کلاسک اسوسیٹس کے مالک انجینئریم کےسمیر خان نے ریاستی قانون ساز کونسل کیلئے تیسری مرتبہ منتخب ہونے پر کے پی سی سی مینارٹی چیرمن ‘کے عبدالجبار ‘ کو تہنیت پیش کی ،علاوہ ضلع بھر کی مختلف سیاسی شخصیتوں اور ملی و فلاحی تنظیموں تنظیم المسلمین فنڈ اسوسیشن اڈوائزری کمیٹی ،پیپلس لائرس گلڈ ، بار اسوسیشن سے جڑے وکلاء و دیگر وکلاء و مساجد مدارس انجمنون ، معروف سماجی شخصیتوں کی جانب سے تہنیت کا سلسلہ جاری ہے،اس موقع پر سابق ضلع وقف مشاورتی کمیٹی چیرمن محمد سراج وغیرہ شریک رہے۔ضلع کنرا ساہتیہ پریشد کنوینر، سابق ضلع وقف مشاروتی کمیٹی نائب چیرمن، دوا بیج اور کھاد کے معروف کاروباری، چنگیری تعلق ورگنگ جرنلسٹ اسوسیشن کے اعزازی صدر تعلیم کے معاملے میں بیدا ر شخصیت طلباء و اساتذہ وغیرہ کا تعلیمی اعتبار سے تعاؤن کرنے کے عادی سنتے بنور ‘کے سراج احمد نے بھی عبدالجبار کے تیسری مرتبہ قانون ساز کونسل کے لئے منتخب ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس پارٹی ریاستی و قومی سطح پر کانگریس قائدین کے ذریعہ باصلاحیت فرد کو پارٹی کی جانب سے اُمیدوار بنائے جانے اور بلامقابلہ منتخب ہونے پر کانگریس پارٹی ریاستی و قومی سطح قائدین کی سراہنا کی کہ کسی بھی قوم کا فرد ہو وہ اپنی قوم کو پارٹی کے لئے ووٹ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو وہی دراصل پارٹی کا سچا وفادار ہوتا ہے ،یہ خصوصیت عبدالجبار میں موجود پائی گئی ہے ،ساتھ میں پارٹی کی حکومت بننے پر قوم کے مسائل پرحکومت کی توجہ مبدول کرواتے ہوئے قوم کے مسائل حل کرنے دیگر اقوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے قوم اور پارٹی دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنا ہی اصل پارٹی لیڈروں کا کام ہونا چاہیئے انہی خصوصیات کی حامل شخصیت کو اپنا اُمیدوار بناکر کامیاب کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جس وقت عبدالجبار کونسل کے کانگریس پارٹی سے بلا مقابلہ منتخب ہوکر پہلی مرتبہ اپنے شہر داونگیرے پہنچے اُس وقت اُن کا جس انداز سے تمام طبقات کے لوگوں نے پرتپاک خیرمقدم کیا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آیندہ پارٹی کو عبدالجبار کا قانون ساز کونسل کے لئے اُمید وار بنانا اور کامیاب کرتے ہوئے کونسل تک پہنچنے کا راستہ فراہم کرنا یقینا پارٹی کو سود مند ثابت ہوگا ، کانگریس ہمیشہ ملک میں اقتدار کیلئے نہیں بلکہ ملک کی ترقی لوگوں میں آپس بھائی چارگی کو اہمیت دیتی آئی ہے عبدالجبار کو کانگریس پارٹی میں اُمیداوار بنانہ اسی کی مثال ہےاور خوش آئند پہلو ہے،سمجھنے کی بات ہےکہ ملک میں بہت ساری علاقائی پارٹیاں خود سکیولر تو کہتی ہیں مگر وقت آنے پر اپنا اصل چہرہ دیکھانے سے بھی کتراتی نہیں مگر کانگریس پارٹی نے ہمیشہ سکیولر اُصولوں کا پاس رکھا اور دستور آئین ہند کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے ملک کو ترقی کی سمت لیجانے کا جذبہ رکھتی ہے ، موجودہ دور میں ملک پر قابض جو انگریزوں کے ذریعہ ملک کو غلام بنائے جانے پر بھی کچھ فرق نا پڑا ہو اور انگریزوں کی دلالی کرنے میں بھی کبھی شرم محسوس نا کی ہو ، ملک میں امن بھائی چارگی کے ماحول کو خراب کرتے ہوئے مذہب کا سہارہ لے جن کا مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں لوگوں کے دلوں میں زہر گھول کر اقتدار تک پہنچنے پر دستور کی پامالی کرتے ہوئے مذہبی منافرت کو ہوا دینے والی فرقہ پرست طاقتوں سے ملک کو بچانا اب ہر سچے محب وطن کا کام ہے، اس کام کو انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے کی طرز پر کام کرتے ہوئے ہر محب ، وطن کو ایک ہوکر کام کرنا ہوگا ،ورنہ وہ دن دور نہیں کہ فرقہ پرست عناصر اپنے طاقت کے نشے میں ملک کی معیشت تعلیم یافتہ نوجوان کو بے روزگار مذہبی منافرت کو ہوا دے کر اپنی پارٹی کے اراکین کے ذریعہ مذہبی پیشواؤن کے خلاف بے تکی باتوں کے ذریعہ ملک کا وقار مجروح کرتےہوئے وطنِ عزیز کو عالم کے سامنے تن، تنہا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے آئندہ ریاست میں ہونے والے جو بھی انتخابات ہوں ،وہان صرف مسلازن ہی نہیں بلکہ ہر محبِ وطن کو ساتھ رکھتے ہوئے متحدہ طور پر ملک کو بچانے کی فکر کرنی ہوگی دُنیاں کا یہ واحد ملک ہے جہان پر ہر طبقہ ،ذات ،رنگ و نسل ،مختلف زبانون سے واقف ،مختلف مذہبی رسومات کی ادائیگی ،حتہ دُنیاں ساری سمٹ کر جہان رہ گئی وہ ہے بھارت اسی لئےپیغمبر اسلام ﷺنے کہا کہ میں ہند سے خوشبو محسوس کررہا ہوں ، پھر اقبال نے کہا کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہماراکسی ایک گل سے گلدستہ جو بنتا ہے اس میں وہ خوبصورتی نہیں ہوتی جس میں ہر قسم کے گل ہون وہ گلستان ہماراہمیں چاہیئے کہ ہر طبقہ کے ساتھ پوری دیانداری کے ساتھ پیار محبت کے ساتھ زندگی بسر کریں جس طرح ہمارے اسلاف نے ملک میں امن بھائی چارگی کی فضاء سے وہ مہک پیدا کی جس کی بو سے سارہ بھارت مہکا اور اسی خوشبو کو پاکر یہاں تہذیب تمدن سسکتی بلکتی انسانیت کو جینے کی راہ میسرہوئی تنگ نظری کسی بھی قوم یا ملک کو نا ترقی دیے سکتی ہے اور نا ہی لوگوں میں پیار محبت کو فروغ دے سکتی ہے، لوگوں میں پیار محبت بھائی چارگی کے ساتھ مل جھل کے زندگی کرنا ایک سچے ہندوستانی کی نشانی ہونی چاہیئے ،شر پسند عناصر کا سرمایا ہی لوگوں کے دلوں میں الگ الگ موضوعات پر منافرت پیدا کرنا ہوتا ہے اور اُن کا مقصد بھی محدود ! اقتدار حاصل کرنا ہی ہوتا ہے،اقتدار حاصل کرنے کے بعد نا ہی ملک کی فکر ہوتی ہے نا ہی ملک میں بسنے والے انسانوں کی۔! ہوتی اگر تو وعدے کے مطابق تعلیم یافتہ نوجوانوں کوروزگار کے مواقع پیداکرتے ، سرکاری شعبہ جات و جائیدادوں کو نجی نہ کرتے ہوئے ترقی دی جاتی ،آج ملک میں بے روزگاری کا جو معاملہ ہے کیا حکومت اس سے واقف ہے شائد اٹھارہ گھنٹے کام میں مصروف حکومت ان تمام سے بے خبر پائی جارہی ،اس کی مصروفیت میں کمی کی اور ملک کے سامنے منہ کھولے مسائل کی طرف حکومت کی توجہ کیلئے اب خود عوام کو سامنے آنا اور اِنہیں حکومت سے بے دخل کرنا ہر سچھے وطن پرست کی ذمہ داری ہے ۔
