’اگنی پتھ ‘ کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری،مہاراشٹر میں بھی مظاہرے

سلائیڈر نیشنل نیوز
 جونپور سے جہان آباد تک بسوں میں توڑ پھوڑ، پتھرائو اور فائرنگ، آتشزنی، ۳۶۹ ٹرینیں رد، بہار میں ریلوے کو ۲۰۰ کروڑ کا نقصان، بڑے پیمانے پر مظاہرین پر کارروائی، سینکڑوں گرفتار ، کانگریس کا آج ستیہ گرہ 
دہلی:۔فوج میں بھرتی سے متعلق اگنی پتھ اسکیم کے خلاف چوتھے دن بھی ملک بھر میں پرتشدد احتجاج ہوئے۔ بہار، یوپی، راجستھان، گجرات، مہاراشٹر، تمل ناڈو ، تلنگانہ میں اسٹیشنوں پر چوتھے دن بھی توڑ پھوڑ، آتشزنی، بسوں کو آگ کے حوالے کردیاگیا۔مخالفت کے پیش نظر ۳۶۹ ٹرینوں کو رد کردیا ہے۔ ادھر کانگریس نے اتوار کو جنتر منتر پر ’ستیہ گرہ‘ کا اعلان کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ، اس کی ورکنگ کمیٹی کے اراکین اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے عہدیداران ستیہ گرہ میں حصہ لیں گے جو۱۹ جون کو صبح ۱۰بجے جنتر منتر پر شروع ہوگا۔پارٹی کے ایک رہنما نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے لیا گیا کہ اگنی پتھ اسکیم نے ہمارے ملک کے نوجوانوں کو برہم کر دیا ہے اور وہ مشتعل ہوکر سڑکوں پر نکل کر پر تشدد احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں، اور انہیں تشدد سے باز آنے کی گزارش کریں ۔  آج بہار مہاگٹھ بندھن نے ’بہار بند‘ کا اعلان کیا تھا ۔ اگنی پتھ اسکیم کیلئے بلائے گئے بند کے درمیان ہفتہ کو شہر سے شہر ہنگامہ جاری رہا۔ یوپی کے جونپور سے لے کر بہار کے جہان آباد تک احتجاجی طلباء نے آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کی۔ کچھ جگہوں پر انہوں نے ٹرکوں اور بسوں کو آگ لگا دی۔بہار کے حالات اس وقت بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ دانا پور ریلوے ڈویژن میں کئی ٹرینوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے آزاد میڈیا سے معلومات نہیں مل رہی ہیں۔ ریاست میں حکمراں جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ اس سے ریاستی مشینری متاثر ہو رہی ہے۔ریلوے نے تشدد کی وارداتوں کے پیش نظر یہاں رات آٹھ بجے تک سبھی ٹرینوں کو سسپینڈ کردیاگیا ہے۔ اور ۱۹؍ جون تک نیٹ سروس بند کیے جانے کا اعلان کیاگیا ہے تاکہ افواہوں پر قابو پایاجاسکے۔اگنی پتھ اسکیم کو لے کر بہار میں احتجاج کے پیش نظر ریلوے نے ٹرینوں کا آپریشن روک دیا ہے۔ یہ پابندی اتوار کو بھی برقرار رہے گی۔ اس احتجاج کی وجہ سے بہار میں ریلوے کو ۲۰۰کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ بہار میں مظاہروں کا سلسلہ ہفتہ کو بھی جاری رہا۔پٹنہ کے مسوڈھی میں تارگینا ریلوے اسٹیشن کے قریب کئی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔ الزام ہے کہ یہاں پولیس پر گولیاں بھی چلائی گئیں۔ تقریباً سو رائونڈ فائرنگ کی بات کہی جارہی ہے۔ مظاہرین نے اسٹیشن ماسٹر کے دفتر اور کیبن کو آگ لگا دی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان سو سے زیادہ گولیاں چلی ہیں۔ یہاں کی صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب طلباء کو ایک کوچنگ سینٹر میں صبح آٹھ بجے چھٹی دے کر ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ طلباء کے جمع ہونے کے بعد جب پولیس نے انہیں وہاں سے ہٹانا شروع کیا تو ہنگامہ شروع ہو گیا۔بکسر میں بہت ہنگامہ ہوا۔ وہاں بازار کو آگ لگا دی گئی۔ جہان آباد میں ٹرک کو جلا دیا گیا۔ ہفتہ کو ریاست کے تمام حصوں میں بند کا خاصا اثر رہا۔ آر جے ڈی نے اگنی پتھ اسکیم کے خلاف بہار بند کا اہتمام کیا تھا۔ اس کی حمایت بی جے پی کے علاوہ تمام جماعتوں نے کی۔ ارول میں بہار بند کے دوران ارول کے کُرتھا ہسپتال سے ریفر مریض کو صدرفل پہنچانے کے دوران مظاہرین نے ایمبولینس پر حملہ کر دیا۔ اس میں ایمبولینس ڈرائیور اور مریض شدید زخمی ہو گئے ہیں۔جموئی کے جھاجھا میں پولیس پر پتھراؤ: جموئی کے جھاجھا تھانہ علاقے کے تحت سوہجنا موڑ میں پولیس پر پتھراؤ کیا گیا ہے۔پٹنہ کے قریب تاریگنا اسٹیشن پر بند کے حامیوں نے قبضہ کر لیا۔ اس دوران ایک درجن کے قریب گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جس کے بعد پولیس نے فائرنگ کی۔مونگیر میں بھی مظاہرین نے ہنگامہ کیا۔ تارا پور بی ڈی او کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کی خبر ہے۔ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف اتر پردیش کے کئی شہروں میں پرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس حرکت میں آگئی ہے۔ ریاست کے کئی شہروں سے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔ہفتہ کو پولیس نے بلیا سے ۱۰۹متھرا سے ۷۰علی گڑھ سے ۳۱وارانسی سے  ۲۷اور گوتم بدھ نگر سے ۱۵لوگوں کو گرفتار کیا۔وارانسی کے تین تھانوں میں چار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ نوئیڈا میں ۷۵نامزد اور ۱۰۰نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔نوئیڈا میں مظاہرے کے دوران نو پولیس اہلکار اور ایک بس ڈرائیور زخمی ہو گئے تھے۔ اتر پردیش سے اب تک ۲۶۰سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔سنیچر کو راجستھان کے کئی اضلاع میں نوجونوں نے احتجاج کیا،  جے پور شہر میں بیناڑ ریلوے اسٹیشن پر توڑ پھوڑ کی گئی، وہیں بھرت پور روڈ ویز بس کو روک دی گئی، الور میں سینکڑوں نوجوانوں نے جے پور دہلی نیشنل ہائی وے جام کرکے احتجاج کیا۔ اجمیر میں مظاہرین نے پتھرائو کیا، یہاں پولس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوگئی ۔ پولس روکنے گئی تو پتھرائو کردیاگیا۔ لدھیانہ میں مظاہرین نے ریلوے اسٹیشن پر توڑ پھوڑ کی حالات کو دیکھتے ہوئے پولس کو تعینات کیاگیا ہے۔ ممبئی میں یوتھ کانگریس کے کارکنان نے ذیشان صدیقی کی قیادت میں سڑکوں پر بینر لے کر نعرے بازی کرتے ہوئے اگنی پتھ کے خلاف مخالفت درج کرائی، مالیگائوں میں بھی نوجوانوں نے نعرے بازی کی اور اسے رد کرنے کا مطالبہ کیا، اسی طرح مہاراشٹر کے بیڑ میں بھی ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن  آف انڈیا اور اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا تنظیم نے مظاہرہ کیا ۔