بنگلورو:۔ غیر قانونی طورپر اثاثہ جات کے معاملے میں لوک آیوکت کے افسران نے کرناٹک بھر میں 13 سرکاری افسران کے 70 سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے۔ لوک آیوکت انسپکٹر جنرل آف پولیس اے. سبرامنامیشور راؤ نے کہا کہ 13 افسران کے خلاف کارروائی کی گئی۔ 70 سے زیادہ احاطوں میں تلاشی جاری ہے۔ ان میں سے تین بنگلورو میں تعینات ہیں۔ذرائع کی مانیں تو تلاشی کے دوران 6 لاکھ روپے کی نقدی، تین کلو سونا، 25 لاکھ روپے کے ہیرے اور 5 لاکھ روپے کی قدیم چیزیں برآمد کی گئیں۔ اس کے ساتھ سرمایہ کاری سے متعلق قابل اعتراض دستاویزات، پرتعیش مکانات اور مہنگی گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔اس سے قبل 17 اگست کو، لوک آیوکت نے افسران کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے دوران ریاست میں چھاپے مارے تھے۔ بیدر، دھارواڑ، کوڈاگو، رائچور، داونگیرے اور چتردرگہ سمیت 48 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔لوک آیو کت کے ذریعہ چھاپہ مارنے والوں میں داونگیرے میں بروہت بنگلورو میونسپل کارپوریشن (بی بی ایم پی) کے ایک سابق انجینئر، بیدر میں ایک کانسٹیبل اور کوڈاگو میں ایک اپوزیشن افسر شامل تھے۔ لوک آیوکت کے اہلکاروں نے مڈیکیری ضلع میں ایک افسر کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تھا۔ان چھاپوں کے درمیان میسوروضلع کے ننجن گوڈ فرسٹ کالج کے لکچررپر گھر بھی چھاپے مارے گئے ،اس دوران لکچرر اور اس کے اہل خانہ کے نام سے موجود کروڑوں روپیوں کی املاک ضبط کی گئی ہے۔مہادیوسوامی نامی لکچررکے پاس سے6.8 کروڑ روپیوں کی املاک اور2.33 کروڑ روپیوں کی نقدرقم ضبط کی گئی ہے،لکچرر ایم ایس انفراسٹرکچرنامی کارخانہ چلارہاہے،اس کے علاوہ گروکل نامی ٹرسٹ کے ذریعے سے پی یو کالج،پرائمری اسکول اور اکادمی بھی چلارہاہے۔ان کے پاس سے فارچیونر، ہونڈائی ،ورنا،ہونڈائی آئی 10 کار،چھ اسکول بس اور موٹر بائک بھی ضبط کئے گئے ہیں۔ان کروڑ وں روپیوں کی املاک کے باوجود لکچررکےپاس سے بی پی ایل کارڈبھی ضبط کیاگیاہے۔
