ملک و قوم کی ترقی میں ہر ایک کا اپنا کلیدی رول ہونا ضروری ہے:شیخ محمد اکبر 

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
ادارہ ٹیپوشہید پالی ٹیکنک ہبلی میں اولڈ بائز گروپ تقریب کا انعقاد
ہبلی:۔’’یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں کہ چھتیس سالوں بعد بھی اولڈ بائز گروپ کا اپنے مادرِعلمی کو اپنی یادوں کا مسکن بنائے ہوئے ،دوبارہ الگ الگ ریاستوں سے ادارہ میں اکھٹا ہونا اور بانیانِ ادارہ اور اساتذہ کو یادرکھنا اور اپنے احساسات وجذبات کا اظہارکرنا ، اولڈ بائز گروپ کا یہ عمل سالوں یاد رکھا جائیگا۔‘‘ان خیالات کا اظہار شیخ محمد اکبر بانی صدر ٹیپوشہید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (پالی ٹیکنک) ہبلی نے اپنے صدارتی خطاب میں سن 1986ء میں پاس شدہ آٹو موبائیل انجنیئرنگ اولڈ بائز گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ مزید کہاکہ طلباء ملک وقوم کا اثاثہ ہوتے ہیں اور یہ دیکھ کر ادارہ سے فارغ شدہ طلباء ایک کامیاب زندگی گذارہے ہیں تو ایک روحانی سی مسرت ہوتی ہے جسے لفظوںمیں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ صدر موصوف نے اولڈ بائز گروپ سے گذارش کی کہ اب وہ عمر کے جس دورسے گذررہے ہیں جہاں پہ شعور پختہ اور فکر بالیدہ ہوجاتی  ہے اور یہ سب پرلازم ہوجاتاہے کہ ملک و قوم کی ترقی میںہر ایک کو اپنی کلیدی رول اداکرنا ہوگا تاکہ ایک اچھا سماج ومعاشرہ کی تشکیل دے سکیں جہاں پہ امن ، شانتی اور بھائی چارہ ہو اور وطن عزیز ترقی کی راہوں پر گامزن ہو۔آخر میں موصوف نے کہا کہ جو اولڈ بائز معاشی طورپر کافی حدتک مضبوط ہوچکے ہیں اور اپنے اپنے پروجکٹس اور فیکٹریوں کے مالک ہیں اس خوشحالی کو مذید تقویت دیں تاکہ اس خوشحالی کے اثرات دور تک پھیلیں اور سماج کا ہر طبقہ اس سے فیض یاب ہو۔ مہمان خصوصی نظام الدین ۔اے۔ واچمیکر بانی سکریٹری ادارہ ٹیپو شہید پالی ٹیکنک نے اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اولڈ بائز گروپ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ تین دہائیوں سے زائد عرصہ بعد بھی اپنے تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر مختلفریاستوں سے ادارہ میں اکھٹا ہونا اور بانیانِ ادارہ اور اساتذہ سے محبت اور اپنے اخلاص کا اظہار کرنا جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ آج کے اس مادہ پرست دور میں ہر کوئی ایک دوسرے سبقت لے جانے کی دھن میں ہے ان حالات میں اولڈ بائز گروپ کا اپنے مادرِ علمی کو یا درکھنا اور آکر ہم سب سے ملنا اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی قدریں آج بھی مضبوط اور مستحکم ہیں ۔مزید کہا کہ ادارہ سے جو بھی فارغ شدہ طلباء ہندوستان اور بیرونی ممالک میں اپنا مستقبل روشن کرچکے ہیں ،ہم تمام ان کیلئے دعا گو ہیں کہ وہ جہاں بھی ہو، اپنا ،اپنے والدین اور ملک کا نام روشن کرتے رہیں۔ ادارہ کے پرنسپل یم۔یس۔ ملّانے کالج کی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ ستّر کے آخری دہے میں ریاست کرناٹک میں ٹیکنالوجی اپنے عروج پر تھی اورتکنیکی افرادی قوت کابحران پایا جارہا تھا ایسے دور میں بانیان ِٹیپوشہید انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی ،شیخ محمد اکبر اور نظام الدین واچمیکر نے حالات کی نبض کو سمجھا اور مستقبل میں جوان نسل کی معاشی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ادارہ ٹیپوشہید پالی ٹیکنک کا قیام سن 1980میں عمل میں آیا تاکہ ملازمتوں میں پائے جانے والے تکنیکی افراد قوت کے بحران کو دور کیاجاسکے اور قوم وملت کے جوان نسل کو تکنیکی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فوری ملازمت مل جائے ۔ جس سے سماج کا ہر طبقہ معاشی طورپر مستحکم ہو جائے۔ اس موقع پر ہیڈ آف سیول ڈپارٹمنٹ رویندر سنگھ عطارنے کہا کہ میں سن 1989 میں اس ادارہ میں تکنیکی تعلیم حاصل کرنے کے لئے دور دراز علاقہ ہماچل پردیش سے آگیا تھا۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ادارہ کا تعلیمی ماحول اور بانیان ِادارہ کی پدرانہ شفقت نے مجھے حددرجہ متاثر کیا کہ میں اس ادارہ سے منسلک ہوگیا اور مجھے آج اس ادارہ میں درسی خدمات انجام دیتے ہوئے تیس سال پورے ہوچکے ہیں۔ مہاراشٹرا سانگلی کے مشاہدمجاور نے 1986بیاچ کے ساتھیوں کو اکھٹا کرنے میں مسلسل 2سال محنت کی ۔کوئی موبائیل اور فون نمبرنہیں تھے، فیس بک اور دیگر ذرائع سے اپنے ساتھیوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مشاہد مجاور جو خودبھی سانگلی گورنمنٹ ٹیکنکل کالج میں آٹوموبائیل ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں اس پروگرام کوقطعی شکل دینے میں کامیاب رہے ۔آخر دوسال کی جدوجہد کے بعد اولڈ بائز گروپ کاقافلہ مختلف ریاستوںسے نکلا اور ادارہ ٹیپو شہید پالی ٹیکنک پہنچ گیا۔ اس موقع پر اولڈ بائز گروپ نے بانیانِ ادارہ شیخ محمد اکبر اورنظام الدین کو تہنیت پیش کی اور کہا کہ دوران تعلیم انہوںنے ہماری تعلیم وتربیت کی نگرانی اور یہ پدرانہ شفقت کا رویہ ہمارے ساتھ رکھا یہ ہمیں تاحیات ہمارے ذہینوںمیں محفوظ رہیگا۔ اولڈ بائز گروپ نے اس موقع پر ادارے کے رکن حیات خان کالے مدار اور اپنے پرانے ریٹائرڈ اساتذہ بی۔ یچ۔ کٹنور ، پی ۔یم۔ شرور، جی ۔ یم ۔ جمعدار، محمد غوث مکاندار، اور دوسرے اساتذہ رویندر سنگھ عطار ، عابد حسین کتور ، یم ۔اے۔ باگلکوٹ، چندر شیکھر توپد، منجوناتھ یادواڑ، ایم ۔اے۔ بنکاپور، موہن ہمپی ھولی، نیز پرنسپال یم۔یس۔ ملاکو تہنیت پیش کی اور اپنے اساتذہ کے تعلیمی خدمات اظہار کیا۔ دلی جذابات ،مسرت وشادمانی کا ایک سماں بند گیا اور بہت ساری یادوں کا تذکرہ نکل پڑا ۔ پروگرام کا آغاز قرآن پاک سے ہوا۔ نظامت وویک جوشی نے کی شکریہ شاہد مجاور نے اداکیا۔