شیموگہ :کرناٹک حکومت کے نوٹیفکیشن کےمطابق استعمال میں لائے جانے والے پلاسٹک کی مصنوعات پر بتاریخ 2016/03/11سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نئی دہلی نے پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ (ترمیمی) ضوابط 2021 سے ممنوع شدہ پلاسٹک کی مصنوعات کے ساتھ ان ممنوعہ مصنوعات کو یکم جولائی 2022 سے لاگو کئے جانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔2016 میں پابندی عائد کئے ہوئے پلاسٹک کی اشیاء میں کیری بیگ، پلاسٹک بینرز، پلاسٹک بنٹنگس، پلاسٹک فلکس، پلاسٹک کی پلیٹیں، پلاسٹک کے جھنڈے، پلاسٹک کے کپ، پلاسٹک کے چمچے، چپکنے والی فلمیں، ڈائنگ ٹیبل کے اوپر بچھائی جانے والے پلاسٹک کے دسترخوان،پلاسٹل اسٹرا، تھرماکول اور پلاسٹک کی چھوٹی موتیوں سے بنائی جانے والی چیزوں پر پابندی نافذ کی گئی تھی اور اب پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ رول 2016 کے 4 (2) کے مطابق (جس میں ترمیم کی گئی ہے)،پالیسٹرین اور اسپینڈنگ پالیسٹرین،سمیت پلاسٹک اسٹریکرس، ایئر بڈز، بلون کیلئے استعمال ہونے والے پلاسٹک اسٹیکرس، پلاسٹک کے جھنڈے، پلاسٹک کینڈی اسٹکس، پلاسٹک آئس کریم اسٹکس،سجانے کیلئے استعمال ہونے والی پالیسٹرین (تھرماکول)، موٹی پلاسٹک کی پلیٹیں، پلاسٹک کے کپ اور گلاس، کانٹے، پلاسٹک کے اسکوپس، پلاسٹک کے چاقو، کٹلری جیسے پلاسٹک کی ٹرے،میٹھائی کے ڈبے، پیکنگ فلم، دعوت نامے اور سگریٹ کے پیکٹ، 100 مائیکرون سے کم اورموٹا یا پی وی سی بیانرس، پلاسٹک اسٹریکرس کی تیاری، درآمد، ذخیرہ اندوزی، تقسیم اور استعمال پر 21 جون سےپابندی لگائی گئی ہے۔ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کی ہدایت میں ممنوع شدہ ٹائم لائن کے مطابق اوپر درج کردہ تمام اشیاء کی پیداوار، ذخیرہ اندوزی، خوردہ فروش تاجران، دکانوں کے مالکان، ای کامرس کمپنیاں، فٹ پات دکاندار، تجارتی ادارے (مال/مارکیٹ پلیس/شاپنگ سینٹرس/سینما ہاؤسز/سیاحتی مقامات/اسکول /کالج/آفس کمپلیکس/ اسپتال دیگر اداروں اور عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ واحد استعمال پلاسٹک کی تیاری، ذخیرہ، تقسیم اور فروخت بند کردیں۔اس کے علاوہ 30 جون 2022 تک مذکورہ واحداستعمال پلاسٹک (ایس یو پی) مواد کی صفر ذخیرہ اندوزی کو یقینی بنانے کیلئےمتعلقہ اداروں کی طرف سے ضروری کارروائی کی جانی چاہئے۔ تمام ای کامرس کمپنیوں کی ویب سائٹ پر سنگل یوز پلاسٹک کی مصنوعات کی فروخت / ڈسپلےاور اشتہارات پر بھی یکم جولائی سےپابندی ہے۔اگر صنعتوں، تجارتی اداروں، مالس/ مارکیٹ مقامات/شاپنگ سینٹرز/سینما گھروں/سیاحتی مقامات/ اسکولوں/ کالجوں/ دفاتر/ اسپتالوں اور دیگر تنظیموں کی طرف سے مذکورہ حکم کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ماحولیاتی تحفظ (کنزرویشن) ایکٹ، 1986 کے تحت ممنوعہ پلاسٹک کی مصنوعات کو ضبط کرنااور ایسی کمپنیوں پر تالالگانے کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق، ماحولیاتی معاوضہ 5000 روپے فی ٹن جرمانہ عائد کیا جائیگااس بات کی انتباہ محکمہ ماحولیات کے اعلیٰ افسران کی جانب سے دی گئی۔
