از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلےتین دنوں سے ملک سے کورونا غائب ہوچکا ہے، شکر ہے طالبان کا جن کے آتے ہی کورونا کی تیسری وبا کی لہر تھم چکی ہے۔ اب نہ تو کورونا کے اموات کا خوف ہے نہ ہی تیسری وبا سے بچوں کو کوئی خطرہ ہے۔ کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان میڈیا نے طالبان کو لارکھا ہے اوریہ طالبان پوری طرح سے میڈیا پر قابض ہوچکے ہیں ۔جس کی وجہ سے کورونا کا اندازہ نہیں ہورہا ہے۔ شاید آپ لوگوں کو یہ بات مذاق محسوس ہورہی ہوگی لیکن یہ حقیقت ہے۔ اس کا جائزہ آپ خود لگائیں، کسطرح سے میڈیا میں طالبان کا خوف چھایا ہوا ہے۔ ہر ٹی وی چینل پر طالبان ہی طالبان چھائے ہوئے ہیں۔ دراصل پورے کا پورہ میڈیا طالبان کو ولین کے طور پرپیش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ خصوصاً بھارت کا میڈیا اسلاموفوبیا کا شکار ہوچکا ہے۔ حالانکہ بار بار طالبان کہہ رہے ہیں کہ ہم بھلے ہی افغانستان کو اسلامی امارت افغانستان کا نام دے چکے ہیں لیکن ہم اپنے ملک کو دوسرےلیکن اپنے ملک کو دوسرے ممالک کی طرح ہی ترقی یافتہ ، تعلیم یافتہ اور اقتصادی طو ر پر مضبوط ومستحکم کرنے کی کوشش کریںگے۔ مگر طالبان کے اس بیان کے بعد بھی میڈیا میں ایک ہی سوال اٹھ دہرایا جارہا ہے کہ کیا طالبان اپنے پہلے دور کی طرح ہی دوبارہ حکومت کریںگے ؟۔ کیا وہ اسلامک آئیڈیالوجی کو ہی بحال رکھیںگے؟۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب طالبان نے اپنی حکومت کی بنیاد شرعیہ قانون کو نافذ کرنے کیلئے رکھی ہے تو وہ شرعیہ قانون کو ہی نافذ کریگی اور اسلامک آئیڈیالوجی کو بڑھاوا دیتی، مگر جسطرح سے فاشسٹ اورسنگھی میڈیا طالبان کو منفی زاوئے سے پیش کررہا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ میڈیا کو طالبان سے خوف ہے۔ بھارت کے ہی چند ایک میڈیا چینلوں میں یہ دیکھایا جارہا ہے کہ طالبان کا سہارا لیکر پاکستان جہادیوں کو بڑھاوا دیگااور کشمیر پرقبضہ کرنے کیلئے طالبان کا استعمال کریگا۔ لیکن طالبان خود کہہ رہے ہیں کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں تو اس پر کیوں اعتبار نہیں کیا جارہا ہے۔ سوالات بہت ہیں لیکن جو سوالات پوچھے جارہے ہیں وہ قبل ازوقت ہیں اور پچھلے تین دنوں میں جسطرح سے طالبان کو فوکس کیا جارہا ہے اس سے یہ بات واضح ہے کہ دنیا کو اسلامک آئیڈیا لوجی بالکل پسند نہیں ہے۔ رہی بات ان لوگوں کی جو افغانستان چھوڑ بھاگنا چاہتے ہیں ، یقیناً وہ لوگ بھی افغان شہری ہیں لیکن یہ بات بھی ممکن ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ انکی زندگی اسلامی طریقے سے چلے اوروہ پابندیوں میں گھرے رہیں ۔ ایسے لوگوں کو لبر ل مسلمان کہا جاتا ہے جو آزاد خیالات رکھتے ہیں اورانکا اسلام سےتعلق نام سے ، رمضان وبقرعید کی عید سے اور نکاح ومیت تک ہی ہوتا ہےاورباقی زندگی میں انہیں اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے یہ لوگ ملک چھوڑ کر جانے کی تیاری کررہے ہیں اوریہ قدرتی بات ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کو اچانک ماحول بدل کر سختی برتے ہیں تو ہمارے اپنے بچے بھی ہمارے ماحول سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی طالبان حکومت میں وہورہا ہے۔ اسلئے بحثیت مسلمان مسلمانوں کو سوچنا چاہئے کہ آخر طالبان کو بدنام کیوں کیا جارہا ہے؟۔
