
ادے پور: راجستھان کے ادے پور میں ۱۰ دن قبل گستاخ نوپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈالنے والے ایک درزی کا قتل کردیاگیا ہے، حملہ آور منگل کو دن دہاڑے اس کی دکان میں گھسے اورتیز دار ہتھیار سے کئی وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس پورے معاملے کا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ملزمین نے واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈال کر قتل کی ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے۔ویڈیو میں وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ادے پور والوں گستاخ نبی کی ایک ہی سزا سر تن سے جدا۔ ساتھ ہی ویڈیو میں نوجوان وزیر اعظم مودی کو بھی جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ تاہم بعد میں انہیں راجستھان پولیس نے گرفتار کرلیا گیاہے۔ کنہیا لال تیلی دھان منڈی کے بھوت محل کے پاس سپریم ٹریلس نام کی دکان چلاتا تھا، منگل کو دوپہر ڈھائی بجے بائیک پرسوار دو لوگ آئے، ناپ دینے کے بہانے دکان میں گھسے، کنہیا لال کچھ سمجھ پاتا جب تک ان لوگوں نے حملہ کردیا یکے بعد دیگرے کنہیا لال پر وار کرتے رہے جسکی وجہ سے موقع پر ہی موت ہوگئی۔ کنہیا لال گوردھن ولاس علاقے کا رہنے والاتھا، دس دن پہلے اس نے بی جے پی سے معطل نوپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا جس کے بعد سے ہی اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی تھی۔ کنہیا لال مسلسل دھمکیوں سے پریشان تھا چھ دنوں سے اس نے اپنی دکان بھی نہیں کھولی تھی، اس نے پولس کو دھمکیاں دینے والے نوجوانوں کے بارے میں نامزد رپورٹ بھی دی تھی، پولس نے اسے سنبھل کر رہنے کا مشورہ دیا تھا۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کنہیا لال کے چھوٹے بیٹے نے نوپور شرما کی حمایت میں ایک پوسٹ شیئر کی تھی۔ اس کے بعد کنہیا کی ایک خاص برادری کے لوگوں سےبحث ہوگئی تھی ۔ جب اس نے دھان منڈی تھانے میں اس کی اطلاع دی تو پولیس نے دونوں سے بات چیت کرائی اور تصفیہ کروادیا۔ تاہم اسکے بعد بھی کنہیا لال نے پولیس سے سیکورٹی مانگی ۔ اطلاعات کے مطابق اسے دو دن کیلئے سیکورٹی بھی فراہم کی گئی تھی لیکن جیسے ہی منگل کو پولیس کی حفاظت ہٹائی گئی، اس کے فوراً بعد ملزم نے دن دہاڑے تیز دھار ہتھیار سے اس کا گلا کاٹ دیا۔ کنہیا لال کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔بتایاجاتا ہے کہ دکان کے اندر سات لوگ کام کرتے تھے، اس میں سے حملہ آوروں نے کنہیا لال پر ہی حملہ کیا، جس سے اس کی موت ہوگئی، اس کا ساتھی ایشور سنگھ شدید طو رپر زخمی ہے، جسے ایم بی اسپتال میں بھرتی کرایاگیا ہے۔ دن دہاڑے قتل سے علاقے میں کشیدگی ہے، اہل خانہ ہنگامہ کررہے ہیں، کھیرواڑہ سے پولس کی اضافی ٹکڑیوں کو بلالیاگیا ہے، شہر کے پانچ علاقوں میں بازار بند کردئیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں شامل سبھی مجرمین پر سخت کارروائی کی جائیگی، پولس جرم کی تہہ تک جائیگی میں سبھی فریقوں سے امن وامان برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔ ایسے سنگین جرم میں شامل ہر شخص کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ اس واقعے کا ویڈیو شیئر کرکے ماحول خراب کرنے کی کوشش نہ کریں، ویڈیو شیئر کرنے سے مجرم کا سماج میں نفرت پھیلانے کا مقصد کامیاب ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ میں بار بار وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے کہتا ہوں کہ ملک سے خطاب کریں۔ وزیر اعظم کو اپیل کرنی چاہیے کہ ہم تشدد کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے۔ سب محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہیں ۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے واقعے پر کہا کہ مذہب کے نام پر بربریت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اس حیوانیت دہشت پھیلانے والوں کو فوراً سزا ملے، ہمیں سبھی کے ساتھ مل کر نفرت کو ہرانا ہے۔ میری سبھی سے اپیل ہے کہ امن وبھائی چارہ برقرار رکھیں۔
