سرکاری ملازمین کا اسٹرئیک ہونا طئے،وزیر اعلیٰ سے ہوئی ملاقات میں کوئی حل نہیں،ملازمین احتجاج کیلئے بضد

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔کرناٹکا حکومت کے10 لاکھ سے زائد ملازمین یکم مارچ کو غیر معینہ مدت تک احتجاج پر جانے کیلئے بضدہیں،آج دیررات تک وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کی صدارت میں ہونےوالی خصوصی بیٹھک میں سرکاری ملازمین اور حکومت کے درمیان کوئی حل نہیں نکلاہے۔قریب30.9 بجےسے11 بجے تک ملازم تنظیموں کے ریاستی صدر سی ایس شڈاکشری کی قیادت میں ہونےوالی بیٹھک میں ریاست کے مختلف وزراء بھی شریک رہے،جس میں ریاستی وزیر سری راملو،آر اشوک،ارگا گنیانیندرانے شرکت کی تھی۔وزیر اعلیٰ بومئی نے بیٹھک کے دوران ملازمین کو بھروسہ دیاکہ ان کے مطالبات کو پوراکیاجائیگا،لیکن اس کیلئے کچھ وقت درکارہے،مگر ملازمین تنظیم کے سربراہان اپنی بات پر اڑے رہےاور مطالبات پورے ہونےتک احتجاج کو جاری رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔اس نشست میں اہم مدعہ ساتویں پے کمیشن کارہا،جبکہ این پی ایس ۔اوپی ایس پر کوئی بات نہیں ہوئی۔سی ایس شڈاکشری کا مطالبہ تھاکہ حکومت پے کمیشن کی عبوری رپورٹ منگوائے اور فوری راحت کے طورپر اسی ماہ سے تنخواہوں میں ترمیم کرے ، بقیہ مطالبات کو پوراکرنے کیلئے بھلے ہی وقت لے۔اس سے قبل کرناٹکاحکومت کے ملازمین اپنے مطالبات کو پوراکروانے کیلئے یکم مارچ سے احتجاج پرجانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔آج کرناٹکا گورنمنٹ ایمپلائز اسوسیشن کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں تنظیم کے ریاستی صدر سی ایس شڈاکشری نے کہاکہ ہم ساتویںپے کمیشن کو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ اولڈ پینشن اسکیم کو نافذ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں،حکومت نے پےکمیشن تو نافذ کردیاہے،لیکن اس کمیشن کے سفارشات کو فوری طورپر نافذکرنے کیلئے کسی بھی طرح کے اقدامات اٹھائے نہیں گئے ہیں۔ریاست بھرکے سرکاری ملازمین یکم مارچ سے غیر معینہ مدت تک احتجاج پر جانے کیلئے تیارہیں،جب تک حکومت ہمارے مطالبات کو لیکر احکامات جاری نہیں کرتی اُس وقت تک ملازمین خدمات پر نہیں جائینگے۔سرکاری ملازمین کے احتجاج کو محکمہ صحت،محکمہ تعلیم ،ریونیوڈیپارٹمنٹ اور دیگر محکموں کے ملازمین کی تنظیموں نے مکمل تعائون دینے کا فیصلہ کیاہے۔اس تعلق سے ودھان سودھاکے تمام دفاتر،سکریٹریٹ کے تمام دفاتر،بی بی ایم پی،تعلقہ آفیس ،ڈی سی آفیس، سرکاری اسکول،سرکاری ہاسٹل، پرائمری ہیلتھ سینٹرس،سرکاری اسپتال بند رہے گیں،جبکہ کے ایس آرٹی سی،اسپتال کی ایمرجنسی سرویس،پانی کی فراہمی،بجلی کی فراہمی پر کوئی اثرنہیں ہوگا۔