شیموگہ : کورونا کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی لوگوں میں ابھی یہ ہی واضح نہیں ہے کہ کورونا کی علامتیں کیاہیں۔آج کل جب کسی کو بخار آتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہےکہا اسے موسمی بخار ہے اور وہ کوروناکےٹیسٹ سے بچتا ہےلیکن بعدمیں جب اس کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کو احساس ہوتا ہے کہ اسے کافی دیر ہوگئی ہے۔محکمہ صحت عامہ کے ایپیڈ مالوجسٹ اور سائنسدان ڈاکٹر عرفان احمد کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کی نمایاں علامات میں بخار، گلے کی سوزش، بھوک میں کمی اور تھکاوٹ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو ان میں سے کسی علامت کا سامنا ہے تو اس کے لئے خود کو الگ تھلگ کرنے اور کووڈ 19 ٹیسٹ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ڈاکٹرعرفان احمد سونور نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بار بار پانی پیتے رہیں اور دن کے دوران متعدد بار آکسیجن سچیوریشن کی نگرانی کریں۔انہوں نے کہا ‘آکسیجن سطح 94 سے اوپر محفوظ ہیں اور صرف جب سچیوریشن سطح 94 اور 90 کے درمیان گر جاتی ہے، تو وقت آگیا ہے کہ ہوشیار ہوجائیں اور اس سطح کو زیادہ کثرت سے چیک کریں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آکسیجن سچیوریشن کی سطح 90 سے نیچے آ جاتی ہے تو اب یہ ہسپتال میں داخل کرنے اور ماہرین صحت سے علاج کرنے کا وقت آ گیا ہے۔مزیدانہوں نے کہا کہ گھریلونسخے ایک حد تک ہی کارآمد ہوتے ہیں زیادہ گھریلو نسخوں پر اعتماد نہ کریں اور نہ ہی علامتیں دکھنے پر خوفزدہ ہوجائیں بلکہ احتیاط اور ہمت سے کام لیں ۔
