اللہ اور رسول کا نام لیکر کسی انسان کا قتل کرناقابل قبول نہیں : مولانا شاہد رضاخان

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے:۔پیغمبراسلام کی شان میں گستاخی کرنے کی تائید میں سوشیل میڈیا پر پوسٹ ڈالنے کو بنیاد بنا کر جو قتل کیا گیا اور اللہ و رسول کا نام لیکر اس کو خیر ثابت کرنے کی جو کوشش اُن کی طرف سے ہوئی وہ اسلامی نقطہء نظر سے کسی صورت میں درست نہیں ۔،اِن خیالات کا اظہار داونگیرے شہر کی جامع مسجد کے خطیب وامام مولانا شاہد رضاخان نے نماز جمعہ کے بعد ڈاکٹر سی آر نصیر احمد کے گھر پر نامہ نگار سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فرد اگر کوئی غلطی کرتا ہے یہاں تک کہ شان رسالت میں گستاخی کابھی مرتکب ہوتا ہے اُس وقت بھی کسی کو اپنے طور پر سزا دینے کا اختیار نہیں اگر اسلامی سلطنت ہواور معاملہ اسلامی عدالت میں پیش ہو اس کے بعد تحقیق کے مراحل طئے ہونے کے بعد ہی قانو ن کے تحت سزا قرار پائیگی نہ کہ کوئی بھی سر پھرا جو من میں آئے کرے اور اپنے طور پر قانون ہاتھ میں لیکر جس کو جو چاہے سزا دے ایساء حق کسی کو بھی مذہب اسلام میں نہیں دیا گیا  جبکہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں ملک کے نظام کو چلانے کے لئے باقاعدہ دستور ہند موجود ہے ۔مختلف عقائد نظریات کے لوگ یہاں بستے ہیں سب کو برابری کے حقوق دستور ہند میں موجود ہیں ،باوجود اسکے کوئی اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کیلئے بھی قانون ہے اورحکومت ، عدالت اور قانون کے نفاذ کیلئے ذریعہ موجود ہیں انصاف کے حصول کے طریقے بھی ہیں ،باوجود اِس کے قانون ہاتھ میں لیکر جس کو چاہے کرتا پھرے یہ ہر گز غلط ہے،کیا پیغمبر اعظم کو مکہ میں ستایا نہیں گیا۔؟ فتح مکہ کے دن کس قدر خوف میں مبتلا تھے وہ لوگ جنہوں نے رسولِ اعظم ﷺکو اور اُن کے اصحاب کو ستایا وفتح مکہ کے دن کیا سوچ رہے تھے پیغمبر اسلام نے اُن کے حق میں کیا فیصلہ کیا ،سیرت کا مطالعہ کرنے والے دنگ رہ جاتے ہیں،اسلام کی صداقت پر انگلی اُٹھانے کا موقع فراہم کرنا اور خود کو مسلمان کہنا بڑے شرم کی بات ہے،ایسے گھناؤنے واقعات اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بالکل درست نہیں ہیں۔ملک میں قانون کے ہوتے ہوئے خوف ودہشت کا ماحول پیدا کرنااسلام اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا ۔موصوف نے مزید کہا کہ جمعہ کے خطاب میں بھی اِن  پہلو ؤن پر روشنی ڈالی گئی کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور ایک گلشن کی مانند ہے یہاں ہر ذات ہرطبقہ کے لوگ رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ آپسی بھائی چارگی  کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے، نفرت اور تعصب سے نہ کسی نے کسی کا دل جیتا ہے اور نہ جیتےگا۔پیغمبر اسلام ﷺکی سیرت کا مطالعہ کرنے والاکسی بھی مذہب کا ماننے والاکیوں ہوں وہ معالعہ مطالیہ کے بعد آپ ﷺ کی سیرت سے متاثر اور پیغمبر کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دئیےبغیر نہیں رہ سکتا ۔اس موقع پر سماجی کارکن داکٹر سی آر نصیر احمد بھی شریک رہے۔