سماجی کارکن فیروز نے کی وقف بورڈ چیرمین عبدالغنی سے ملاقات ،مختلف مسائل پر کیاگیاتبادلہ خیال

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔سماجی کارکن ٹینک محلہ فیروز نے ضلع وقف بورڈ مشاورتی کمیٹی چیرمین عبدالغنی سے ملاقات کرتے ہوئے وقف جائیداد کاتحفظ بالخصوص چار اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیاجس میں مرکزی سُنی قبرستان میں ایک قبر کھودنے کیلئے 1500روپئے لئے جارہے ہیں، ۔قبرستان کی صفائی کیلئے اورایک شخص کومعمور کرنے ۔گھر سے قبرستان تک میت کولے جانے والی سواری آخر سفر کی پہلی منزل کے ڈرایئور کو مرحوم کے گھروالوں کی طرف 500روپئے دئے جانے اور حضرت سید شاہ علیم دیوان درگاہ کامپلکس کاکرایہ کی وصولی میں کوتاہی پر بات چیت کی گئی۔اس موقع پر فیروز نے چیرمین عبدالغنی سے کہاکہ حضرت سید شاہ علیم دیون ؒدرگاہ کامپلکس کا اوقافی ملکیت میں شمارہوتاہے، یہ بات موصوں بحث بنی ہوئی ہے کہ دُکانوں کالاکھوں روپئے کرایہ باقی ہے۔کرایہ وصول کرنے میں لاپرواہی کی جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ شہر کامرکزی سُنی قبرستان کی صفائی کیلئے اورایک شخص کو مقررکریں اور اس قبرستان میں ایک قبرکھودنے کیلئے 1500روپئے وصول کئے جارہے ہیں جوکہ اتنے روپئے لینادرست نہیں ہےاور غریبوں پرایک بوجھ سے کم نہیں ہوگا ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ قبرکھودنے والے شخص کو ایک اچھی تنخواہ مقرر کر کے لوگوں سے دیڑھ ہزارروپئے لینے کے نظام کوختم کریں اور آخری سفر کی پہلی منزل سواری کے ڈرایئور کو بھی معقول تنخواہ مقررکرکے پانچ سوروپئے کے رواج کوختم کیاجائے ۔انہوں نے مزید کہاکے اس طرح کے کئی معاملات ہونے کے باوجود کوئی سوال نہیں کیاجارہاہے ۔وقف جائیداد کاتحفظ اوردیگر معاملات پر پوچھنے کاہرایک کوحق ہےلیکن کوئی آگے نہیں بڑھتا۔اس موقع پر چیرمین عبدالغنی نے کہاکہ آخری سفر کی پہلی منزل سواری کاڈرایئور مرکزی سُنی جامع مسجد میں خدمات انجام دے رہے ہیں اوراس کی ذمہ داری مسجد کے کاموں تک ہی محدود ہے۔اگر اس دوران کسی کو آخری سفر کی پہلی منزل سواری کی ضرورت پڑتی ہے تو ایک دوگھنٹے کیلئے ڈرایئور نہیں مل سکتا اس لئے اسی شخص کوہی مسجد کے علاوہ ڈرایئور کی ذمہ داری دی گئی ہے،اس کیلئے پانچ سوروپئے مقررکئے گئے ہیں۔وقف چیرمین نے مزید کہاکہ جو شخص قبرستان میں قبریں کھودتاہے اس شخص کو قبریں کھودنے کیلئے نہیں بلکہ قبرستان کی دیکھ بھال کیلئے رکھاگیاہے اور اسے اس کام کیلئے ماہانہ 7/ ہزارروپئے تنخواہ دی جارہی ہے،قبریں کھودنے کاکام الگ ہے وہ شخص قبرستان کی دیکھ بھال کے ساتھ قبریں کھودتاہے اور اس کی فیس لیتاہے۔عبدالغنی نے اس بات کایقین دلایا کہ ان تمام معاملات پرغور کرکے فیصلہ لیاجائے گا۔میں اکیلا کسی طرح کافیصلہ نہیں لے سکتا ۔بہت جلدبورڈ کے تمام اراکین کے ساتھ میٹنگ منعقد کرکے رائے مشورےسے فیصلہ لیا جائیگا۔قبرستان نگرانی کیلئے پانچ افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہےاوراس کمیٹی کے ذمہ داروں سے بھی بات چیت کی جائے ،اگراس کمیٹی کو کام کرنے میں دلچسپی نہیں ہے تو دوسری کمیٹی بناکرذمہ داری سونپی جائے۔