شائدکہ تیر ے دل میں اتر جائے میر ی بات
از:۔عزیز اللہ سرمست
آج کا انقلاب ٹی وی ،آج کا انقلاب اردو روزنامہ شیموگہ کے جواں سال ایڈیٹر مدثر احمد بے باک اداریے لکھنے کے لئے کافی مشہور ہیں اور نا پسندیدہ بھی حالانکہ وہ خواب غفلت میں سوئی ملت کو بیدار کرنے کے لئے صور پھونکے کا کام کر رہے ہیں لیکن ان کی بے باکی اور تلخ نویسی ہر ایک کو گراں گزرتی ہے ۔ان کا قلم واقعی شمشیر بے نیام ہے اور اُن کے نوک قلم سے نکلنے والی تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر صاحب منصب کو اس میں اپنی تصویر دکھائی دیتی ہے اور وہ سمجھنے لگتا ہے کہ مدثر نے اُسی کو نشانہ بنایا ہے ۔مجھے مدثرکے اداریوں سے بڑی خوشی ہوتی ہے اور مجھے اپنی جوانی کے ایام یاد آتے ہیں جب میں نتائج اور عواقب کی پرواہ کئے بغیر بڑے سے بڑے صاحبان منصب اور اداروںکو تنقید کا نشانہ بناتا تھا ۔مدثر کی تحریروں پر چراغ پا ہونے والوں کو غور کرنا چاہئے کہ مدثر کی تحریرجب ناگوار اور نا پسندیدہ ہے تو وہ صاحبان منصب کیسے پسند یدہ اور معتبر ہو سکتے ہیں جن کو مدثر اپنی تحریر میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔مدثر احمد کا مقصد قطعی کسی کو چوٹ دینایا اُن کے سماجی مقام و مرتبہ کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہے ۔وہ اپنے مدیر انہ منصب کو ادا کرنے میں نہایت مخلص اور بے لوث ہیں ۔وہ صحا فی ہونے کی ذمہ داری بخوبی نبھا رہے ہیں ۔اُن کو کسی شخصیت سے نہ کوئی بیر ہے اور نہ ہی بغض ہے ۔حق گوئی و بیباکی کا اظہار اور تنقید کو برداشت کرنے ، جوابدہی کا ظرف یہ دونو ں اسلام کی بہترین خوبیاں ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ آج تنقید کو برداشت کرنے اور جوابدہی کے ظرف کا فقد ان پایا جاتا ہے ۔جب حضرت عمرؓ جیسی سوپر پا ور شخصیت کو جوابدہی کیلئے منبر پر چڑھنے سے روک دیا جاتا ہے تو کیا آج اُن سے بڑھ کر کوئی جلیل القد ر شخصیت ہو سکتی ہے ؟آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارا ایک بھی ادارہ ایسا نہیں ہے جس میں شفا فیت ہو ۔ہر ادارہ میںاقربا نوازی ، کنبہ پروری ہو رہی ہے ۔ہم مودی حکومت کی آمریت پر تو خوب بولتے ہیں لیکن ہمارے اپنے اداروں میں کہاں جمہوریت ہے ؟ہمارے یہاں شخصیت پرستی کو اس قد ر بڑھا وا دیا جاتا ہے کہ
اُسے تنقید اور جوابدہی سے بالا تر سمجھا جاتا ہے ۔ مرعوبیت اس قد ر غالب ہے کہ تنقید اور جواب طلبی کے لئے کوئی آگے آنے کی ہمت نہیں کرتا ۔اس غلط روش کے نتیجہ میںہمارے معاشرہ میںزبردست بگاڑ آیا ہوا ہے اور اجتماعیت کا تصور ہی ختم ہوگیا ہے ۔ہر موقع و سہولت ،منصب اور ادارہ سے صرف چند مخصوص افراد ، گروہ یا خاندان ہی استفادہ کر رہے ہیں ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا مدثر احمد جیسے چند درد مند مصلح اس بگاڑ کو سدھار پائیں گے؟یہ لوگ آخر اندھوں کے شہر میںکب تک شیشے فروخت کرنے کا کام کریںگے ؟ایسا بھی نہیں ہے کہ جن کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہوا ہے وہ نہیںجانتے کہ وہی بگاڑ کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔سرداران قریش بخوبی جانتے تھے کہ پیغمبر اسلامؐحق پر ہیں اور بت پرستی شرک ہے لیکن و ہ معاشی نقصان کے خوف سے اسلام قبول کرنانہیں چاہتے تھے۔ 360بتوں سے جو آمدنی ہو ا کرتی تھی اُ س کا خسارہ انہیںمنظور نہیں تھا۔کم و بیش آج کے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔جانتے بوجھتے لوگ خود غرضی اور مفاد پرستی کے زیر اثر جائیدادوں اور عہدوں پر قابض ہیںاور مسلسل حق تلفی کر رہے ہیں۔ اگر آج مفاد پرستی اور حق تلفی کو ترک کر دیاجائے اور اسلامی ایثار و قربانی کا جذبہ اپنایا جائے ، صرف مسجد میں نہیں بلکہ مسجد کے باہر عملی زندگی میں مساوات کو اپنا یا جائے ، عیش و آرام طلبی کے بجائے سادگی کو اختیار کیا جائے تو سارا بگاڑ بھی دور ہوگا اور ملت میں بہ آسانی معاشی استحکام پید اہو گا ۔انصار و مہاجرین میں جو جذبہ اخوت تھا ، کیا ہم اُس کو نہیں اپنا سکتے ؟صحابہ ، سلف صالحین اور ہم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ہم گفتار کے غازی ہیں اور و ہ کردار کے غازی تھے۔آج ہمیںتقریروں اور تحریروں کی نہیں بلکہ عمل کی ضرورت ہے ۔
