پی ایف آئی پر پابندی عائدکرنے کی ہورہی ہے تیاری، کرناٹک میں این آئی اےکی ضرورت ہے:وزیر اعلیٰ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

منگلورو میں ہلاک ہونے والے پروین کے اہل خانہ کو دئیے گئے25 لاکھ،اسی شہرکے مقتول مسعودکو نہیں ملی
پھوٹی کوڑی،نہ ہی ملے اس کے قاتل،دیر شام محمد فاضل نامی نوجوان پر بھی قاتلانہ حملہ،پرومودمتالک پر پابندی

منگلورو:۔کرناٹک کے منگلوروضلع کے سولیا علاقے کے بی جے پی لیڈرکے قتل کے بعد آج وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے ا سکے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں25 لاکھ روپئے کا معاوضہ دیا اور بتایاکہ پروین نٹاروکے قاتلوں کوبخشانہیں جائیگا اور اس سلسلے میں وہ خود جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے پروین کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پروین کے اہل خانہ کو حکومت کی جانب سے25 لاکھ روپئے اور بی جے پی سے25 لاکھ روپئے کا معاوضہ دیاجارہاہے اور حکومت کی طرف سے مزید سہولیات فراہم کی جائیگی۔وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ جب تک پروین کے قاتلوں کو سزانہیں ہوگی اُس وقت تک وہ خاموش نہیں بیٹھے گیں،سزا دینے کے بعدہی پروین کی آتما کو شانتی ملے گی۔پروین کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور یہ قابل مذمت ہے،پچھلے دس سالوں سے اس علاقے میں ایسی وارداتیں پیش آرہی ہیں،اس واردات کو ہم قتل کی واردات نہیں بلکہ ایک دہشت گردانہ حرکت قرار دیتے ہیں۔اس طرح کی حرکتوں کو انجام دینے والے کچھ شرپسندعناصرہیں،ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائیگی۔وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہاکہ کرناٹکا کیلئے این آئی اے کا مرکز قائم کرنے کیلئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاگیاہے،خصوصاً منگلوروکیلئے علیحدہ شعبےکی ضرورت ہے،ابتدائی تحقیقات کے بعد اس معاملے کو این آئی اے کے حوالے کیا جائیگا۔پی ایف آئی پر پابندی لگانے کیلئےتیاریاں شروع ہوچکی ہیں،اس معاملے میں گرفتار ہونےوالے ملزمان کا تعلق بھی پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی سے ہے۔ملک کے مختلف مقامات پر اس طرح کی حرکتیں مسلسل ہورہی ہیں ، جس کے تار پی ایف آئی سے جڑ رہے ہیں ۔مسعودکے قتل اور پروین کے قتل کے درمیان تعلق ہے یا نہیں اس سلسلے میں بھی جانچ کی جائیگی۔دریں اثناء منگلوروضلع کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہاں کے ڈپٹی کمشنر نے سری رام سیناکے سربراہ پرومود متالک کے داخلے پر پابندی عائدکی ہے، ضلع کے حساس اور پیچیدہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ احکامات جاری کئے جانے کی بات ڈپٹی کمشنرنے کہی ہے۔اس وقت منگلوروضلع میں حالات کشیدہ ہوئے ہیں،پرومود متالک کے آنے کے بعد مزید ماحول خراب نہ ہو اس کیلئے یہ احتیاطی تدابیر اختیارکئے جانے کی بات کہی گئی ہے۔وہیں دوسری جانب وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے آج سولیاکے پروین کے گھر پر حاضری دیتے ہوئے اس بات کا بھی پیغام دیاہے کہ اُن کی نظرمیں صرف ہندوکی موت ہی اہمیت رکھتی ہے مسلمانوں کی نہیں،کیونکہ اسی علاقے میں مسعود نامی نوجوان کو بجرنگ دل کے کارکنوں نے قتل کیاتھا،لیکن اس سلسلے میں اب تک کسی بھی طرح کی سخت قانونی کارروائی نہیں کی ہے،نہ ہی مسعود کے اہل خانہ کو حکومت کی طرف سے کسی بھی طرح کی امداددینے کی بات کہی گئی ہے۔آج وزیر اعلیٰ خود سولیا پہنچے تھے،جہاں پر مسعود کا گھربھی تھا،مگر وزیر اعلیٰ نے اس نوجوان کے گھر کا رُخ کرنے کی بات تو دور اس کے اہل خانہ کو تعزیتی پیغام تک نہیں پہنچایاہے۔ان تمام کے درمیان دیر شام منگلوروضلع کے ہی سورتکل میں ایک مسلم نوجوان پر چند نوجوانوں نے جان لیوا حملہ کیاہے۔محمدفاضل نامی سورتکل کے منگل پیٹے کے ساکن پرکل رات جان لیوا حملہ کیاگیاہے۔حملہ آوار کارمیں سوار ہوکر آئے تھے اور وہ بےتحاشہ حملہ کیا جس کے بعد اسے اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی ،مگر راستے میں ہی فاضل نے دم توڑا۔خدشات ظاہرکئے جارہے ہیں کہ فاضل پر جو حملے کی کوشش ہوئی ہے وہ پروین کی موت کابدلہ ہے ۔ اس تعلق سے پولیس تحقیقات کررہی ہے۔تاتحریر اس معاملے میں پولیس نے کسی بھی طرح کا بیان جاری نہیں کیاہے۔